حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش کے ضلع بریلی میں ایک خالی مکان کے اندر باجماعت نماز ادا کرنے پر 12 مسلمانوں کو حراست میں لیے جانے کے واقعہ نے ریاست میں مذہبی آزادی، آئینی حقوق اور انتظامیہ کے رویّہ پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی “بغیر اجازت” مذہبی سرگرمی انجام دینے پر کی گئی، وہیں مقامی لوگوں نے سوال کیا کہ ’کیا اب مسلمانوں کو خالی گھر کے اندر نماز پڑھنے کے لیے بھی سرکاری اجازت درکار ہے؟
اتوار 18 جنوری 2026 کو پولیس نے بریلی کے محمد گنج گاؤں میں 12 افراد کو اس الزام میں حراست میں لیا کہ وہ ایک خالی مکان میں نمازِ جمعہ ادا کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق، سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں چند افراد اس مکان کے اندر نماز پڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 12 افراد کو حراست میں لے لیا۔
ایس پی (ساؤتھ) انشیکا ورما نے کہا کہ مقامی افراد کی شکایت پر پولیس کو اطلاع ملی کہ مذکورہ خالی مکان کو گزشتہ چند ہفتوں سے “عارضی مدرسہ” کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، “بغیر اجازت کسی نئی مذہبی سرگرمی یا اجتماع کا انعقاد قانون کی خلاف ورزی ہے۔”
تاہم، اس بیان نے ایک نئے تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نماز، جو اسلام میں فرض عبادت ہے، کیا اسے بھی اب ‘نئی مذہبی سرگرمی’ قرار دیا جائے گا؟ آئینِ ہند کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، بشرطیکہ اس سے امنِ عامہ متاثر نہ ہو۔ اس معاملہ میں نہ تو کسی تشدد کی اطلاع ہے، نہ ہی امن و امان میں خلل کی کوئی ٹھوس مثال سامنے آئی ہے۔
پولیس کے مطابق، خالی مکان حنیف نامی شخص کی ملکیت ہے اور اسے عارضی طور پر جمعہ کی نماز کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ جب حکام نے اجازت یا دستاویزات طلب کیں تو کوئی تحریری اجازت پیش نہیں کی جا سکی۔ چند مقامی افراد نے اعتراض کرتے ہوئے پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد نماز روک دی گئی اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
حراست میں لیے گئے 12 افراد کے خلاف “امن میں خلل” سے متعلق دفعات کے تحت چالان کیا گیا، بعد ازاں انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں سے ضمانت مل گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تین دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔
اس واقعہ پر سماجی اور مذہبی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور سوال کیا جارہا ہے کہ خالی مکان میں نماز ادا کریں تو اسے جرم کیسے کہا جا سکتا ہے؟ کیا یہ اقدام مسلمانوں کو ان کی بنیادی مذہبی آزادی سے محروم کرنے کی ایک اور کڑی نہیں؟
ایک مقامی سماجی کارکن نے کہا، “آج خالی مکان میں نماز پر کارروائی ہو رہی ہے، کل کیا گھروں میں تنہا نماز پڑھنے پر بھی اجازت نامہ مانگا جائے گا؟
قانونی ماہرین بھی اس کارروائی کو غیر متناسب اور امتیازی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر کوئی مذہبی اجتماع پرامن ہو اور کسی عوامی خلل کا سبب نہ بنے تو محض اجازت نہ ہونے کی بنیاد پر پولیس کارروائی آئینی روح کے خلاف ہے۔


