پولیس شہریوں سے اس طرح ٹریفک چالان وصول نہیں کرسکتی! تلنگانہ ہائیکورٹ کی اہم ہدایت

حیدرآباد (دکن فائلز) عام شہریوں خاص طور پر آٹو رکشہ والے و دیگر غریب افراد کےلئے بڑی راحت کی خبر ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے منگل کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس شہریوں کو سڑک پر روک کر زیرِ التوا ٹریفک چالان زبردستی ادا کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ عدالت نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ٹریفک جرمانے وصول کرنے کے لیے قانونی عمل (Due Process) کی مکمل پابندی ضروری ہے۔

ہائی کورٹ کے سنگل بنچ، جس میں جسٹس این وی شراون کمار شامل تھے، نے یہ ہدایت سکندرآباد کے رہائشی وی راگھویندر چاری کی جانب سے دائر دو رِٹ درخواستوں پر سماعت کے دوران دی۔ درخواست میں حیدرآباد ٹریفک پولیس کے نفاذِ قانون کے طریقۂ کار کو چیلنج کیا گیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ شہریوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے چالان ادا کریں، لیکن اگر پولیس کسی کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے تو اسے عدالتی نوٹس جاری کرنے سمیت مکمل قانونی طریقۂ کار اپنانا ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ پولیس زبردستی اقدامات، جیسے گاڑی کی چابیاں چھیننا یا ضبط کرنا، کے ذریعے فوری ادائیگی پر مجبور نہیں کر سکتی۔

یہ حکم لاکھوں مسافروں اور بالخصوص دو پہیہ گاڑی چلانے والوں کے لیے بڑی راحت سمجھا جا رہا ہے۔

پس منظر اور درخواست گزار کے دلائل
اس سے قبل بھی ہائی کورٹ میں ایک درخواست پر سماعت ہوئی تھی جس میں پولیس کی جانب سے گاڑیاں روک کر موقع پر ہی زیرِ التوا چالان وصول کرنے کے عمل کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اُس وقت جسٹس مادھوی دیوی نے محکمۂ داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں میں تفصیلی جواب طلب کیا تھا۔

درخواست گزار وی راگھویندر چاری نے عدالت کو بتایا کہ 17 مارچ 2025 کو ان کی گاڑی پر ’ٹرپل رائیڈنگ‘ کے الزام میں 1200 روپے کا چالان عائد کیا گیا، مگر اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کس قانونی شق کے تحت جرمانہ لگایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ان کی گاڑی پر لگائے گئے تین چالان صرف موبائل فون سے لی گئی تصاویر کی بنیاد پر تھے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ذاتی موبائل فون، ہینڈ کیمز یا غیر تصدیق شدہ آلات کو قانونی نفاذ کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ صرف سرکاری طور پر منظور شدہ اور سرٹیفائیڈ نگرانی کیمرے ہی ٹریفک خلاف ورزیوں کے ثبوت کے طور پر قابلِ قبول ہیں۔

قانونی نکات اور اعتراضات
درخواست گزار کے وکیل وجے گوپال نے دلیل دی کہ یہ جرمانے موٹر وہیکلز ایکٹ 1988 کی دفعہ 128 مع دفعہ 177 اور سنٹرل موٹر وہیکل رولز 1989کے قاعدہ 167A(6) کے منافی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست نے 2019 کی ترمیم شدہ جرمانہ ساخت کو مکمل طور پر نافذ نہیں کیا، اس لیے 1988 کے ایکٹ کے تحت ہی چالان جاری ہونے چاہئیں۔

مزید یہ کہ درخواست میں کہا گیا کہ پولیس اہلکار غیر قانونی طور پر جرمانے کی رقم خود طے کر رہے ہیں اور موقع پر ہی رقم وصول کر رہے ہیں، جبکہ سزا یا جرمانے کا تعین کرنا صرف عدالتی مجسٹریٹ کا اختیار ہے۔ اس عمل کو اختیارات کی علیحدگی (Separation of Powers) کے اصول کے خلاف قرار دیا گیا۔
جی او 108/2011 پر سوال

درخواست میں گورنمنٹ آرڈر (GO) نمبر 108 سال 2011 کو بھی چیلنج کیا گیا، جس کے تحت پولیس کو گاڑیاں روک کر کمپاؤنڈ جرمانے وصول کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق یہ جی او غیر آئینی ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور مرکزی موٹر وہیکلز ایکٹ سے متصادم ہونے کے باعث ڈاکٹرائن آف ریپگننسی کے تحت ناقابلِ قبول ہے۔

وکیل کا بیان
سماعت کے بعد نیوز میٹر سے بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ وجے گوپال نے کہا: “تلنگانہ پولیس دہائیوں سے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عوام سے رقم وصول کر رہی ہے، جسے سول سوسائٹی کو اب قبول نہیں کرنا چاہیے۔ کس جرم پر کیا سزا ہوگی، اس کا فیصلہ صرف عدالت کر سکتی ہے، نہ کہ کانسٹیبل، ہوم گارڈ، ایس آئی یا سی آئی۔”

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ “موبائل فون سے تصاویر لے کر مخصوص طور پر متوسط طبقے کے دو پہیہ سواروں کو نشانہ بنانا اب قانون نافذ کرنے کا واحد نظر آنے والا طریقہ بن چکا ہے۔” ہائی کورٹ کے اس تازہ حکم کو ٹریفک نفاذ میں شفافیت اور قانونی بالادستی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں