اہم خبر: سنبھل فائرنگ معاملہ میں پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والے باہمت جج صاحب کے ساتھ کیا ہوا؟

حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں 2024 کے ایک متنازع فائرنگ معاملے میں پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وبھنشو سدھیر کو الہ آباد ہائی کورٹ نے منگل کو دیگر 13 عدالتی افسران کے ساتھ تبادلے کے احکامات کے تحت منتقل کر دیا ہے۔ جج صاحب سدھیر کو سنبھل سے سلطان پور بطور سول جج (سینئر ڈویژن) تعینات کیا گیا ہے، جبکہ چنداؤسی کے سول جج (سینئر ڈویژن) آدتیہ سنگھ نے سنبھل میں ان کی جگہ سنبھال لی ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں جج وبھنشو سدھیر نے سابق سرکل آفیسر انوج چودھری، کوتوالی انچارج انوج تومر اور 15 تا 20 نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ معاملہ نومبر 2024 میں تاریخی شاہی جامع مسجد کے سروے کے خلاف احتجاج کے دوران مسلم نوجوان عالم کو گولی لگنے اور زخمی ہونے سے متعلق تھا۔

عالم کے والد یامین کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جج سدھیر نے کہا تھا کہ یہ بات واضح ہے کہ عالم کو گولی لگی ہے، تاہم فائرنگ کرنے والے کی شناخت کی جانچ ضروری ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے تھے کہ چونکہ اقدامِ قتل ایک سنگین جرم ہے، اس لیے یہ قرینِ قیاس نہیں کہ متاثرہ شخص اصل حملہ آور کو چھوڑ کر کسی بے گناہ کو جھوٹا نامزد کرے۔ جج نے یہ بھی کہا تھا کہ مجرمانہ افعال کے لیے پولیس اہلکار اپنی سرکاری ڈیوٹی کا دفاع پیش نہیں کر سکتے۔

قبل ازیں سنبھل پولیس نے جج کے حکم کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی بات بھی کہی تھی۔ سنبھل فائرنگ میں پانچ مسلم نوجوان ہلاک ہوگئے تھے جبکہ پولیس نے فائرنگ کی تردید کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں