مسلم باپ اور بیٹے کا قتل! بیران پور تشدد کیس کے 17 ملزمان بری، متاثرہ خاندان مایوس

(تصویر بشکریہ دی ہندو)
حیدرآباد (دکن فائلز) چھتیس گڑھ کے ضلع بیمیترا کی سیشن عدالت نے 2023 کے بیران پور فرقہ وارانہ تشدد سے جڑے دوہرے قتل کے مقدمے میں تمام 17 ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ الزامات کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

کلاریون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ مقدمہ اپریل 2023 میں بیران پور گاؤں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات سے متعلق تھا۔ اطلاعات کے مطابق دو مختلف برادریوں کے بچوں کے درمیان تنازع بڑھ کر بڑے تصادم میں تبدیل ہو گیا تھا۔ 8 اپریل 2023 کو 23 سالہ بھونیشور ساہو ہلاک ہوئے، جس کے بعد ریاست کے مختلف علاقوں میں کشیدگی اور احتجاج دیکھنے میں آیا۔

تین دن بعد، 11 اپریل کو رحیم محمد (55) اور ان کے بیٹے محمد (35) کی لاشیں کورواہی گاؤں کے قریب کھیت سے برآمد ہوئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ بکریاں چرانے گئے تھے۔ پولیس نے ساجا تھانے میں مقدمہ درج کر کے 17 افراد کو گرفتار کیا تھا۔

عدالتی ذرائع کے مطابق استغاثہ نے 50 سے زائد گواہان پیش کیے، تاہم آزاد گواہان نے عدالت میں استغاثہ کے مؤقف کی تائید نہیں کی۔ اسی بنیاد پر عدالت نے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔ ایک وکیل کے مطابق، “فوجداری قانون میں الزام ثابت کرنے کی ذمہ داری استغاثہ پر ہوتی ہے۔ جب آزاد گواہان ساتھ نہ دیں تو سزا سنانا مشکل ہو جاتا ہے۔”

متاثرہ خاندان نے فیصلہ پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ایک قریبی رشتہ دار نے کہاکہ “ہم نے تین سال انصاف کا انتظار کیا۔ آج کہا جا رہا ہے کہ ثبوت کافی نہیں تھے، مگر ہمارے زخم باقی ہیں۔”

بھونیشور ساہو کے قتل کا مقدمہ علیحدہ طور پر رائے پور میں سی بی آئی عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جس میں 12 افراد گرفتار ہیں اور وہ عدالتی تحویل میں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں