حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں بھونگیر کے بوملرامارم منڈل کے جلال پور گاؤں میں واقع جامع مسجد پر حملہ اور قرآنِ مجید کی بے حرمتی کا افسوسناک واقعہ جہاں ایک جانب عوام کے دلوں کو رنجیدہ کر گیا، وہیں دوسری جانب اسی سرزمین سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انسانیت کی ایک روشن مثال بھی سامنے آئی ہے، جس نے ریاست کی گنگا جمنی تہذیب کو ایک بار پھر زندہ و تابندہ ثابت کیا ہے۔
راما کنڈکٹرز کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب راجندر اگروال نے جیسے ہی جامع مسجد جلال پور پر حملے اور قرآنِ پاک کی بے حرمتی کی ویڈیو دیکھی تو وہ شدید رنج و غم میں مبتلا ہوگئے۔ انہوں نے اس واقعہ کو نہ صرف تکلیف دہ قرار دیا بلکہ اسے انسانیت کے خلاف اقدام بتایا۔ ذرائع کے مطابق وہ پوری رات سو نہ سکے اور انہوں نے اسے اپنا اخلاقی فریضہ سمجھا کہ متاثرہ برادری کے ساتھ کھڑے ہوں۔
اسی جذبۂ خیرسگالی کے تحت انہوں نے امجد اللہ خان ترجمان مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی)، سے فوری رابطہ قائم کیا اور مسجد کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کے لیے مالی تعاون کی پیشکش کی۔ بعد ازاں جناب راجندر اگروال، امجد اللہ خان کے ہمراہ جامع مسجد جلال پور پہنچے جہاں انہوں نے مسجد کمیٹی کے صدر محمد سلیم سے ملاقات کی۔
اس موقع پر جناب اگروال نے مسجد کی باؤنڈری وال، دروازوں اور مائیک سسٹم کی مرمت کے آغاز کے لیے رقم پیش کی اور یقین دہانی کرائی کہ اگر مزید فنڈز کی ضرورت پیش آئی تو وہ اضافی تعاون کے لیے بھی تیار ہیں۔ ان کا یہ اقدام اس بات کا واضح پیغام ہے کہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کے مقابلے میں محبت، بھائی چارہ اور انسانیت کی طاقت کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امجد اللہ خان نے کہا کہ “تلنگانہ میں گنگا جمنی تہذیب زندہ ہے۔” انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ریاست کے عوام اتحاد، امن اور باہمی احترام پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ شرپسند عناصر عبادت گاہوں پر حملہ کر کے اور مذہبی جذبات کو مجروح کر کے ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں، مگر ذمہ دار شہری اپنے طرزِ عمل سے ان سازشوں کو ناکام بنا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جناب راجندر اگروال کا یہ عمل اُن لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو ہندوستان کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر بانٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب جناب اگروال نے انسانیت کا ثبوت دیا ہو۔ کووڈ وبا کے دوران بھی انہوں نے متعدد ضرورت مند مسلم خاندانوں کو ادویات اور مالی امداد فراہم کی تھی۔
تلنگانہ، جو اپنی گنگا جمنی تہذیب، مشترکہ ثقافت اور صدیوں پر محیط رواداری کے لیے جانا جاتا ہے، ایک بار پھر اس واقعے کے ذریعے ملک کے سامنے ایک مثبت مثال بن کر ابھرا ہے۔ یہاں مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ دکھ اور خوشی کے ہر موقع پر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہتے ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ہندوستان کی اصل طاقت ہے۔
راجندر اگروال کا یہ اقدام محض مالی امداد نہیں بلکہ ایک پیغام ہے—یہ پیغام کہ انسانیت مذہب، ذات اور فرقے سے بالاتر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:


