واہ رے انصاف! پہلے بجرنگ دل کے غنڈوں نے دو مسلم افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں پولیس نے انہیں ہی جیل بھیج دیا: بہار پولیس کی کاروائی پر سوال اٹھنے لگے

واہ رے انصاف! پہلے بجرنگ دل کے کارکنوں نے دو مسلم افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں پولیس نے انہیں ہی جیل بھیج دیا، بہار پولیس کی کاروائی پر سوال اٹھنے لگے

(فوٹو بشکریہ ملت ٹائمز)
حیدرآباد (دکن فائلز) ملت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بہار کے مدھے پورہ میں دو مسلم افراد کو گائے کی اسمگلنگ، مویشی چوری اور جانوروں پر ظلم کے الزامات میں جیل بھیج دیا گیا، تاہم اس کارروائی نے مقامی سطح پر شدید تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

محمد بھوپال اور محمد اویس کو 5 اپریل کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ایک پک اپ گاڑی میں مویشی لے جا رہے تھے۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ انہیں پہلے ایک مقامی ہجوم نے روکا، مارا پیٹا اور بعد میں پولیس کے حوالے کیا۔ پولیس نے تشدد کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر درج کیا گیا۔ تھانہ انچارج کرشنا کمار سنگھ کے مطابق ملزمان مویشیوں کی خریداری کے دستاویزات پیش نہیں کر سکے۔

تاہم مقامی کسانوں نے پولیس کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مویشی قانونی طور پر فروخت کیے گئے تھے۔ لکشمی پور لال چند پنچایت کے پانچ کسانوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ 10 سے 15 سال سے محمد بھوپال کو مویشی فروخت کرتے آرہے ہیں اور اس بار بھی جانور انہی کے تھے۔

اہل خانہ کے مطابق 15 سے 20 افراد پر مشتمل ایک گروہ، جسے مبینہ طور پر بجرنگ دل سے وابستہ بتایا جا رہا ہے، نے گاڑی کا پیچھا کیا اور دونوں افراد کو اغوا کرکے سنسان علاقہ میں لے جا کر تقریباً ایک گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا۔ محمد بھوپال کے بیٹے محمد شاہنواز کے مطابق انہوں نے پولیس سے مدد کی اپیل کی لیکن فوری کارروائی نہیں کی گئی۔ بعد ازاں پولیس پہنچی مگر مبینہ طور پر حملہ آوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، بلکہ متاثرین کو ہی گرفتار کر لیا گیا۔

ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں مبینہ تشدد دکھایا گیا ہے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں کسی ویڈیو یا شکایت کی معلومات نہیں۔ اہل خانہ نے الزام لگایا کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود دونوں افراد کو مناسب طبی امداد فراہم کیے بغیر جیل بھیج دیا گیا، جس پر مقامی لوگوں نے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ پولیس نے محمد بھوپال اور محمد اویس کو تشدد کا نشانہ بنانے والے افراد کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی جو انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ متاثرین کے اہل خانہ نے ضلعی حکام سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور انصاف فراہم کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں