حیدرآباد (دکن فائلز) لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق الہ آباد ہائی کورٹ نے اسلام اور قرآن کے خلاف مبینہ توہین آمیز مواد شائع کرنے کے کیس میں ایک کتاب کے ایڈیٹر ڈاکٹر مدن گوپال سنہا کی بریت (ڈسچارج) کی درخواست مسترد کردی ہے۔
جسٹس سبھاش چندر شرما کی بنچ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ الزامات کے تعین کے مرحلہ پر صرف بظاہر کیس کو دیکھا جاتا ہے اور اس معاملہ میں ابتدائی شواہد موجود ہیں، اس لیے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ درست ہے۔ یہ مقدمہ ضلع غازی پور کے ایک تھانے میں بھارتی تعزیرات ہند کی دفعات 153B اور 295A کے تحت درج کیا گیا تھا۔
شکایت کے مطابق “ٹنکار ساؤدھان آگے یہاں دھماکہ” نامی کتاب میں اسلام کے خلاف توہین آمیز مواد شامل تھا، جسے سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے شائع اور پھیلایا گیا۔ پولیس تحقیقات کے دوران متعدد کتابیں برآمد ہوئیں جن پر ڈاکٹر مدن گوپال سنہا کا نام بطور ایڈیٹر درج تھا۔
یہ کتابیں مبینہ طور پر یشو جی مہاراج کے کہنے پر “سنجے پستک بھنڈار” کے ذریعے شائع کی گئی تھیں۔ جون 2025 میں غازی پور کی ٹرائل کورٹ نے ملزم کی جانب سے دائر ڈسچارج درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے خلاف انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش درست طریقے سے نہیں کی گئی اور محض نام درج ہونے کی بنیاد پر انہیں کیس میں پھنسایا گیا ہے۔ تاہم ریاستی حکومت نے مؤقف اپنایا کہ کتاب میں شامل مواد مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والا ہے۔
ہائی کورٹ نے کیس ڈائری اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ ابتدائی طور پر جرم ثابت ہونے کے شواہد موجود ہیں اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی خامی نہیں پائی گئی۔ عدالت نے کہا کہ درخواست میں کوئی وزن نہیں، لہٰذا اسے مسترد کیا جاتا ہے۔


