حیدرآباد (دکن فائلز) امراوتی میں ایک نہایت ہولناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک شخص نے مبینہ طور پر درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں کم عمر لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسا کر ان کا جنسی استحصال کیا۔ پولیس کے مطابق اس کیس میں اب تک 180 سے زائد لڑکیوں کے متاثر ہونے کا شبہ ہے، جبکہ 350 سے زیادہ فحش ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پراتواڑہ کا رہنے والا ملزم ایاز عرف تنویر نے واٹس ایپ اور اسنیپ چیٹ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسایا۔ بعد ازاں انہیں ممبئی اور پونے جیسے شہروں میں لے جا کر ان کے ساتھ نازیبا حرکات کی ویڈیوز بنائیں۔ ان ویڈیوز کو بنیاد بنا کر لڑکیوں کو بلیک میل کیا جاتا اور انہیں زبردستی جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا تھا۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا اور عدالت میں پیش کیا، جہاں اسے سات دن کی پولیس تحویل میں بھیج دیا گیا۔ پولیس نے ملزم کے قبضے سے موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات ضبط کیے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں قابل اعتراض ویڈیوز پائی گئی ہیں۔ سائبر سیل کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ مواد کسی منظم نیٹ ورک کے ذریعہ پھیلایا گیا یا نہیں۔
اس کیس میں ایک اور ملزم، حذیفہ اقبال خان (20 سال) کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پولیس کو اب تک 18 ویڈیوز اور 39 تصاویر ملی ہیں، جبکہ متاثرین کی تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان متاثرین میں کئی نابالغ لڑکیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکیاں یا ان کے اہل خانہ ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں، جس سے شبہ ہوتا ہے کہ خوف یا دباؤ کے باعث وہ خاموش ہیں۔
پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ شکایت کنندگان کی شناخت کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا اور مزید متاثرین سے آگے آنے کی اپیل کی گئی ہے۔


