بڑی خبر: لو جہاد کا جھوٹا پروپگنڈہ! یوپی میں تبدیلی مذہب قانون کے تحت دھڑا دھڑ جھوٹی ایف آئی آرز کا “تشویشناک رجحان” : الہ آباد ہائی کورٹ کی سخت برہمی

حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائیکورٹ نے اترپردیش میں مذہب تبدیلی سے متعلق متنازعہ قانون کے تحت درج کی جانے والی جھوٹی ایف آئی آرز کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک “پریشان کن اور خطرناک جحان” قرار دیا ہے۔

جسٹس عبدالمعین اور جسٹس پرمود کمار شریواستو پر مشتمل بنچ نے ایک سماعت کے دوران مشاہدہ کیا کہ 2021 کے اس قانون کے تحت “دھڑا دھڑ” ایف آئی آر درج کی جا رہی ہیں، جو بعد میں تحقیقات میں غلط ثابت ہو رہی ہیں۔ عدالت نے ریاست کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم) کو ہدایت دی کہ وہ ذاتی حلف نامہ داخل کریں اور ان معاملات میں کی گئی کارروائی کی مکمل تفصیل پیش کریں۔

یہ معاملہ محمد فیضان اور دیگر کی جانب سے دائر ایک فوجداری رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران سامنے آیا، جس میں بہرائچ ضلع کے ایک پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا تھا کہ درخواست گزاروں نے ایک 18 سالہ لڑکی کو اغوا کیا اور اسے مذہب تبدیل کر کے شادی پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔

تاہم درخواست گزاروں نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ عدالت کے سامنے پیش کیے گئے متاثرہ لڑکی کے بیان (بی این ایس ایس کی دفعہ 183 کے تحت) میں اس نے واضح طور پر کہا کہ وہ گزشتہ تین سال سے درخواست گزار کے ساتھ رضامندی سے تعلق میں ہے۔ اس نے مذہب تبدیلی، جبری شادی اور جسمانی تعلقات کے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی۔

متاثرہ نے مزید کہا کہ وہ اپنی مرضی سے درخواست گزار کے ساتھ رہنا چاہتی ہے اور اس نے عدالت سے اپیل کی کہ بعض ہندو تنظیموں کے افراد اسے اور اس کے اہل خانہ کو ہراساں نہ کریں۔ عدالت نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ کے واضح بیان کے باوجود تفتیشی افسر نے صرف ریپ کا الزام ہٹایا، جبکہ اغوا، حملہ اور تبدیلی مذہب مخالف قانون کی دفعات کے تحت تفتیش جاری رکھی، جسے عدالت نے “عجیب موڑ” قرار دیا۔

بنچ نے واضح کیا کہ جب متاثرہ کا بیان خود ایف آئی آر کے الزامات کو غلط ثابت کر رہا ہو تو مزید تفتیش کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ عدالت نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ اس قانون کے تحت تیسرے فریق کی جانب سے ایف آئی آر درج کرانے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

عدالت نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ اس طرح کے معاملات نہ صرف قانون کے غلط استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ انصاف کے نظام پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔ اس حوالے سے عدالت نے سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جس میں اسی طرح کے رجحان کی نشاندہی کی گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق عدالت کے یہ سخت ریمارکس ریاست میں اس قانون کے نفاذ اور اس کے ممکنہ غلط استعمال پر ایک اہم سوالیہ نشان ہیں، اور یہ معاملہ آئندہ دنوں میں قانونی اور سیاسی سطح پر مزید بحث کا سبب بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں