بے گناہ مسلم نوجوانوں کو پھنسایا جارہا ہے! معاشقہ میں تلخی کے بعد لو جہاد کا فرضی دعویٰ: ناسک ٹی سی ایس کیس میں گرفتار ملازمین کے اہل خانہ نے سازش کا لگایا الزام

حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر کے شہر ناسک میں واقع ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کے دفتر میں مبینہ ہراسانی اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کے کیس نے ملک بھر میں شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ اس معاملے میں جہاں ایک طرف پولیس اور شکایت کنندگان سنگین الزامات عائد کر رہے ہیں، وہیں دوسری جانب گرفتار ملازمین کے اہل خانہ نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک “منظم سازش” قرار دیا ہے۔

اہل خانہ کے مطابق اس کیس کو جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور اس میں بعض شدت پسند تنظیموں، خصوصاً بجرنگ دل کے کردار پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ ایک ملزم رضا میمن کے چچا رزاق قاضی نے دعویٰ کیا کہ ان کے بھتیجے سمیت دیگر افراد کو منصوبہ بندی کے تحت پھنسایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے بعد ایک ملزم کو چھوڑ دیا گیا تھا، مگر بعد میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا، جو معاملہ کو مشکوک بناتا ہے۔

ایک اور ملزم توصیف عطار کے والد بلال فاخرمحمد عطار نے بھی تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا خاندان تعلیم یافتہ ہے اور ان کا بیٹا بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، اس لیے اس طرح کے الزامات ان کے لیے ناقابلِ یقین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیس دراصل کچھ ذاتی تنازعات کا نتیجہ ہے، جسے مذہبی رنگ دے کر سنگین بنایا جا رہا ہے۔

کچھ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ اس معاملے کی بنیاد ایک خاتون اور ایک ملازم کے درمیان ذاتی تعلقات میں پیدا ہونے والے تنازعے پر ہے، جس کے بعد معاملے کو پولیس تک لے جایا گیا اور دیگر افراد کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا۔ ان کے مطابق اس واقعہ کو “لو جہاد” جیسے حساس مسئلے سے جوڑ کر غیر ضروری طور پر ہوا دی گئی۔

دوسری جانب پولیس نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں اور تفتیش قانون کے مطابق جاری ہے۔ پولیس کے مطابق اب تک آٹھ خواتین ملازمین کی جانب سے جنسی اور ذہنی ہراسانی کی نو شکایات درج کی گئی ہیں، جو فروری 2022 سے مارچ 2026 تک کے عرصے پر محیط ہیں۔ اس سلسلے میں سات افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ ایک خاتون کی تلاش جاری ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دفتر میں سیکیورٹی اصولوں کی خلاف ورزی اور نامناسب رویہ کے شواہد ملے ہیں، جن کی بنیاد پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس کیس کی حساسیت کے پیش نظر ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔

دوسری جانب ملزمان کے اہل خانہ اسے جھوٹا مقدمہ قرار دے رہے ہیں۔

ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://www.ndtv.com/video/tcs-nashik-case-my-son-is-innocent-says-accused-s-mother-tcs-conversion-racket-1084776

https://x.com/i/status/2002605360993935817

اپنا تبصرہ بھیجیں