بڑی خبر: لبنان میں جنگ بندی کے بعد بڑا سفارتی بریک تھرو: ایران نے آبنائے ہرمز کھول دی، ٹرمپ کا شکریہ، خطے میں کشیدگی کم ہونے کے آثار

حیدرآباد (دکن فائلز) مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے ساتھ ہی ایران نے عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے تناظر میں ایران آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت کو جنگ بندی کی باقی مدت کے لیے مکمل طور پر بحال کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہازوں کی نقل و حرکت پہلے سے طے شدہ “کوآرڈینیٹڈ روٹس” کے مطابق ہوگی، جن کا اعلان ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن پہلے ہی کر چکی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر تہران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا عالمی استحکام کے لیے مثبت قدم ہے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جس کا باقاعدہ نفاذ شروع ہو چکا ہے۔ دارالحکومت بیروت میں اس موقع پر شہری سڑکوں پر نکل آئے اور خوشی کا اظہار کیا، جبکہ بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

ایران میں بھی اس پیش رفت پر ردعمل سامنے آیا، جہاں تہران میں حزب اللہ کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قانی نے بیان میں دعویٰ کیا کہ اس جنگ میں “حقیقی فتح حزب اللہ کی ہوئی ہے” اور جنگ بندی کو مزاحمت کی کامیابی قرار دیا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل و گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ایران کی جانب سے اس گزرگاہ کی بندش کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا تھا اور توانائی بحران کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ ایران نے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے 28 فروری کو کیے گئے حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی۔ بعد ازاں سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی طے پائی، جس کے تحت امریکہ نے مزید حملے نہ کرنے اور ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادگی ظاہر کی۔

ایران نے لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی اس پیش رفت کو مثبت قرار دیا، تاہم ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان کئی بنیادی مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ ان میں جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی، بیلسٹک میزائل پروگرام، اور خطے میں ایران کا کردار جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں