حیدرآباد (دکن فائلز) دکن کی ثقافتی شناخت اور اسٹیج کامیڈی کے بے تاج بادشاہ ببن خان جمعہ 17 اپریل کی شب انتقال کرگئے۔ وہ گزشتہ ایک ہفتے سے انتہائی نگہداشت کے شعبے (آئی سی یو) میں زیر علاج تھے۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ اور دو بچے شامل ہیں۔ ان کی تدفین ہفتہ کی دوپہر شانتی نگر کے قبرستان میں عمل میں آئے گی، جہاں وہ کئی برسوں سے مقیم تھے۔
ببن خان کا نام ان کے شہرۂ آفاق اسٹیج ڈرامے ادرک کے پنجے کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑا رہے گا۔ 1965 میں پیش کیا جانے والا یہ ڈرامہ نہ صرف حیدرآباد بلکہ ملک و بیرون ملک میں بے حد مقبول ہوا اور دنیا کے طویل ترین ون مین شوز میں شمار ہوتے ہوئے ہزاروں مرتبہ پیش کیا گیا۔
ببن خان نے اپنی پوری زندگی لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے لیے وقف کردی تھی۔ ان کی مزاح محض تفریح تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں معاشرتی شعور، غربت، خاندانی مسائل اور روزمرہ زندگی کی حقیقتوں کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی تھی۔ حیدرآبادی دکنی زبان میں پیش کیا جانے والا ان کا منفرد انداز، برجستہ مکالمے اور جاندار اداکاری سامعین کے دلوں میں گھر کرگئی۔
انہوں نے اپنے فن کے ذریعے نہ صرف لوگوں کو ہنسایا بلکہ سماج میں پھیلی برائیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اصلاح کی سنجیدہ کوشش بھی کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا فن نسل در نسل لوگوں میں مقبول رہا اور آج بھی ان کے مکالمے زبان زد عام ہیں۔
ببن خان کے انتقال کے ساتھ ہی حیدرآباد کی ثقافتی اور مزاحیہ روایت کا ایک درخشاں باب بند ہوگیا ہے، تاہم ان کا فن اور پیغام ہمیشہ زندہ رہے گا اور آنے والی نسلوں کو متاثر کرتا رہے گا۔


