مرادآباد برقعہ تنازعہ: دو مسلم طالبات کے خلاف درج ایف آئی آر خارج کرنے سے الہ آباد ہائیکورٹ کا انکار

حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائی کورٹ نے مرادآباد میں مبینہ جبری تبدیلیٔ مذہب کے معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے دو مسلم طالبات کی جانب سے ایف آئی آر خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے، اور پولیس کو مکمل تفتیش جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ کیس جنوری 2026 میں اس وقت سامنے آیا جب ایک ہندو طالبہ نے الزام عائد کیا کہ اس کی مسلم سہیلیوں نے اسے ٹیوشن سے واپسی کے دوران برقعہ پہننے پر مجبور کیا اور اس پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

اس معاملے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کیس نے مزید شدت اختیار کرلی۔ متاثرہ طالبہ کے بھائی کی شکایت پر پولیس نے پانچ لڑکیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا، جن میں سے ایک بالغ جبکہ دیگر نابالغ بتائی جاتی ہیں۔ عدالت کی دو رکنی بنچ، جس میں جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ترون سکسینہ شامل تھے، نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر نوجوانوں میں اس نوعیت کا رجحان بڑھ رہا ہے تو یہ انتہائی تشویشناک ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ اتر پردیش کا 2021 کا قانون غیر قانونی تبدیلی مذہب ایکٹ ایسے ہی معاملات سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر ابتدائی شواہد موجود ہوں تو تفتیش کو روکا نہیں جا سکتا، اور اس مرحلے پر ایف آئی آر کو خارج کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ طالبات کی عمر تعلیم اور مثبت سرگرمیوں کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ ایسے تنازعات میں ملوث ہونے کے لیے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق متاثرہ لڑکی نے بیان دیا کہ اسے زبردستی برقعہ پہنایا گیا، نان ویج کھانے پر مجبور کیا گیا اور اس کا ذہن تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کو بھی بطور ابتدائی ثبوت پیش کیا گیا۔

دوسری جانب مسلم طلبات کے وکلا نے ایف آئی آر کو جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا، تاہم عدالت نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دعوؤں کی تصدیق تفتیش کے دوران ہی ممکن ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں عبوری راحت بھی ختم کر دی، جس کے تحت ایک طالبہ کی گرفتاری پر روک لگائی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بعد پولیس کو مکمل قانونی کارروائی جاری رکھنے کا اختیار مل گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلم طالبات اور ان کے سرپرستوں نے بتایا کہ مسلم طالبات نے اپنی غیرمسلم سہیلی کو اسی کے کہنے پر اور دوستانہ میں اسے نقاب پہنایا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں