خواتین ریزرویشن بل پر ہنگامہ، وزیراعظم مودی کا قوم سے خطاب؛ اپوزیشن پر سخت تنقید

حیدرآباد (دکن فائلز) خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن سے متعلق اہم آئینی ترمیمی بل کی لوک سبھا میں ناکامی کے بعد سیاسی ماحول انتہائی گرم ہو گیا ہے، اسی تناظر میں وزیراعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب کیا اور اپوزیشن جماعتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپوزیشن نے خواتین کے حقوق کو “چھین لیا” اور اس کے بعد جشن منایا، جو ملک کی خواتین کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے خواتین کو پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں مناسب نمائندگی دینے کی بھرپور کوشش کی، مگر اپوزیشن نے سیاسی مفادات کے تحت اس اہم بل کو روک دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک تاریخی قدم تھا، لیکن اپوزیشن کے رویے نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ وزیراعظم کے مطابق، “اپوزیشن نے بڑی غلطی کی ہے اور اسے اس کا جواب دینا ہوگا”، جبکہ عوام کو بھی اس حقیقت سے آگاہ کیا جائے گا۔

یہ خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک دن قبل پارلیمنٹ میں آئین (131ویں ترمیمی) بل 2026 مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا۔ بل کے حق میں 298 ووٹ جبکہ مخالفت میں 230 ووٹ پڑے، جبکہ اسے منظور ہونے کے لیے کم از کم 352 ووٹ درکار تھے۔

اس بل کا مقصد لوک سبھا کی نشستوں کو 543 سے بڑھا کر 816 کرنا تھا تاکہ خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ حلقہ بندی کا عمل بھی تجویز کیا گیا تھا، جس پر اپوزیشن نے سخت اعتراضات اٹھائے۔

اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف تھا کہ خواتین کے ریزرویشن کو حلقہ بندی اور مردم شماری سے جوڑنا دراصل ملک کے انتخابی نقشے کو بدلنے کی کوشش ہے، خاص طور پر جنوبی ریاستوں کی نمائندگی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

وزیراعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نے خواتین کو سیاسی نمائندگی دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں، مگر اپوزیشن نے اسے ناکام بنا کر خواتین کو مایوس کیا۔ انہوں نے وزراء کو ہدایت دی کہ وہ عوام تک یہ پیغام پہنچائیں کہ کون خواتین کے حق میں ہے اور کون اس کے خلاف۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے اس بات پر افسوس بھی ظاہر کیا کہ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود بل منظور نہ ہو سکا، تاہم انہوں نے خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔

بل کی ناکامی کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ ایک جانب حکومت اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دے رہی ہے، تو دوسری جانب اپوزیشن حکومت پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ خواتین کے نام پر سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں