حیدرآباد (دکن فائلز) ساؤتھ سینٹرل ریلوے نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے حیدرآباد میں ایم ایم ٹی ایس ٹرینوں میں مفت سفر کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس طرح کا اعلان یکطرفہ طور پر نہیں کیا جا سکتا۔
دکن کرانیکل کی رپورٹ کے مطابق ریاستی حکومت نے حال ہی میں شہری ٹریفک میں کمی اور عوامی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے ایم ایم ٹی ایس میں مفت سفر کی اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت ایک سال کے لیے تمام مسافروں کو مفت سفر فراہم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم، ریلوے حکام نے اس اعلان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے کسی بھی فیصلے کے لیے پیشگی منظوری اور باقاعدہ معاہدہ ضروری ہے۔
ریلوے ذرائع کے مطابق ایم ایم ٹی ایس ایک مشترکہ منصوبہ ہے، جسے ریاستی حکومت اور بھارتی ریلوے مل کر چلاتے ہیں، اس لیے کسی بھی مالی یا پالیسی فیصلے کے لیے دونوں فریقین کی منظوری ناگزیر ہوتی ہے۔ ریلوے نے واضح کیا کہ جب تک باضابطہ مفاہمتی یادداشت طے نہیں ہوتا اور ریلوے بورڈ سے منظوری نہیں ملتی، اس طرح کی اسکیم پر عملدرآمد ممکن نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت نے اس اسکیم کے تحت ہونے والے مالی بوجھ کو برداشت کرنے کی پیشکش کی تھی تاکہ عوام کو مفت سفر کی سہولت دی جا سکے اور مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہو۔ تاہم، ریلوے حکام کا مؤقف ہے کہ صرف مالی ذمہ داری قبول کرنا کافی نہیں، بلکہ آپریشنل، تکنیکی اور انتظامی معاملات بھی اہم ہیں جن پر مکمل اتفاق ضروری ہے۔
اس کے علاوہ ریلوے نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایم ایم ٹی ایس پہلے ہی کئی مسائل کا شکار ہے، جن میں محدود ٹرین سروسز، کم مسافر تعداد اور بنیادی سہولیات کی کمی شامل ہیں۔ ایسے میں کسی بھی نئی اسکیم کے نفاذ سے قبل ان مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت اس منصوبے کے ذریعہ نجی گاڑیوں کے استعمال کو کم کر کے شہر میں ٹریفک اور آلودگی کے مسائل پر قابو پانا چاہتی ہے۔ تاہم، ریلوے کی جانب سے اعلان مسترد کیے جانے کے بعد اب اس اسکیم کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے اور امکان ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان مزید بات چیت کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ سامنے آئے گا۔


