حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ اور آندھراپردیش میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے، جہاں کئی اضلاع میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ہفتہ کے روز مختلف علاقوں میں دن کے وقت درجہ حرارت 44 سے 45 ڈگری سیلسیس کے درمیان ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ درجہ حرارت تلنگانہ کے ضلع آصف آباد کے علاقے کریمری میں 44.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ نظام آباد، نرمل، جگتیال، عادل آباد اور نلگنڈہ کے مختلف علاقوں میں بھی درجہ حرارت 44 ڈگری سے زائد رہا۔
شدید گرمی کے باعث مختلف اضلاع میں کم از کم چار افراد کی ہلاکت کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم ہفتہ کی شام کو موسم میں جزوی تبدیلی آئی اور بعض علاقوں میں ہلکی بارش نے وقتی ریلیف فراہم کیا۔
حیدرآباد اور اس کے اطراف میں بھی بادل چھائے رہے اور کہیں کہیں ہلکی بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ 26 اپریل تک ریاست کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، تاہم زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں نمایاں کمی کا امکان نہیں ہے۔ اس دوران 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
مزید برآں، بعض اضلاع کے لیے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے، جن میں عادل آباد، منچریال، ملگ، کتہ گوڑم، وقارآباد، سنگاریڈی، میدک اور کاماریڈی شامل ہیں۔
دوسری جانب آندھرا پردیش میں بھی شدید گرمی کا قہر ہے، جہاں رائلسیما اور ساحلی اضلاع میں درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز کر گیا ہے۔ ضلع کڑپہ میں سب سے زیادہ 45.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ نیلور، پرکاشم، کاکیناڈا اضلاع میں بھی درجہ حرارت 43 ڈگری سے اوپر رہا۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ دوپہر 11 بجے سے شام 4 بجے کے درمیان بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں تاکہ گرمی کی شدت سے محفوظ رہا جا سکے۔


