حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال میں 2026 کے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ آج زور و شور سے جاری ہے، جہاں ریاست کی کل 294 نشستوں میں سے 152 نشستوں پر عوام اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس مرحلے میں تقریباً 3.6 کروڑ ووٹرز حصہ لے رہے ہیں، جو 16 اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹنگ کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور ہزاروں پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں تاکہ شفاف اور پُرامن انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ انتخابات ریاست کی سیاست کے لیے نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ حکمران جماعت ترنمول کانگریس، جس کی قیادت ممتا بنرجی کر رہی ہیں، مسلسل چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، جبکہ بی جے پی ریاست میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے پوری طاقت لگا رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار مقابلہ نہایت سخت ہے اور اسے “بنگال کی سیاست کی روح کی جنگ” بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹی ایم سی اپنے فلاحی منصوبوں اور مضبوط گراس روٹ نیٹ ورک کے بل بوتے پر میدان میں ہے، جبکہ بی جے پی وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت اور تنظیمی طاقت کے سہارے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پہلے مرحلے میں کئی اہم رہنماؤں اور حلقوں پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے، جن میں نندی گرام، سلی گڑی، کھڑگ پور اور دیگر حساس نشستیں شامل ہیں۔ اس مرحلے میں کل 1478 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں کئی بڑے سیاسی چہرے بھی شامل ہیں۔
یہ انتخابات دو مرحلوں میں مکمل ہوں گے، جس کا دوسرا مرحلہ 29 اپریل کو ہوگا، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔
مغربی بنگال میں جاری یہ انتخابی معرکہ نہ صرف ریاست بلکہ قومی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ پہلے مرحلے کے نتائج آنے والے دنوں میں سیاسی فضا کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔


