بی جے پی ایک اور مخالف پارٹی کو توڑنے میں کامیاب؟ راگھو چڈھا کا بڑا سیاسی دھماکہ، عام آدمی پارٹی کے کئی اہم لیڈروں کے ساتھ بی جے پی میں شامل ہوگئے

حیدرآباد (دکن فائلز) قومی سیاست خاص طور پر دہلی اور پنجاب کی سیاست میں ایک بڑی ہلچل اس وقت پیدا ہوئی جب راگھو چڈا نے عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ راجیہ سبھا میں پارٹی کے تقریباً دو تہائی ارکان بھی ان کے ساتھ بی جے پی میں ضم ہو رہے ہیں، جو ایک بڑا سیاسی دھچکہ تصور کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عام آدمی پارٹی کے تقریباً 10 راجیہ سبھا ارکان میں سے 6 سے 7 ارکان نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا، جن میں سوَاتی مالیوال، ہربھجن سنگھ، سندیپ پاٹھک، اشوک متل، راجندر گپتا اور وکرم سہنی جیسے نام شامل ہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راگھو چڈھا نے کہا کہ انہوں نے 15 سال پارٹی کو دیے، مگر اب پارٹی اپنی اصل راہ سے ہٹ چکی ہے۔ ان کے مطابق عام آدمی پارٹی اب “ایماندار سیاست” کے اصولوں سے دور ہو گئی ہے، وہ خود کو “صحیح آدمی، غلط پارٹی میں” محسوس کر رہے تھے اور اسی لیے انہوں نے پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے آئینی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی پارٹی کے دو تہائی ارکان چاہیں تو وہ اجتماعی طور پر کسی دوسری جماعت میں ضم ہو سکتے ہیں، اور اسی اصول کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارٹی کے اندر اختلافات کی خبریں پہلے ہی گردش کر رہی تھیں۔

راگھو چڈھا کو حال ہی میں راجیہ سبھا میں پارٹی کے نائب لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ پارٹی قیادت کے ساتھ ان کے اختلافات کھل کر سامنے آ چکے تھے۔

عام آدمی پارٹی نے اس پیش رفت پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے “آپریشن لوٹس” قرار دیا۔ پارٹی رہنماؤں کا الزام ہے کہ بی جے پی اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کو توڑ کر اپنی طاقت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں