غزہ میں اسرائیلی بربریت کے سائے میں 300 جوڑوں کی اجتماعی شادی، صیہونی درندگی اور مظالم کے باوجود ایمانی جذبہ سے سرشار فرزندان توحید کا عزم و حوصلے بلند (ویڈیوز ضرور دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) فلسطین کے محصور علاقے غزہ میں جہاں ہر طرف تباہی، محرومی اور انسانی بحران کے سائے گہرے ہیں، وہیں زندگی، امید اور خوشی کی ایک شاندار مثال سامنے آئی۔ دیر البلح شہر میں 300 فلسطینی جوڑوں کی اجتماعی شادی کا انعقاد کیا گیا، جس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ظلم و بربریت بھی اہلِ غزہ کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتی۔

یہ پروقار تقریب متحدہ عرب امارات کے تعاون سے “الفارس الشہیم” اقدام کے تحت 24 اپریل 2026 کو منعقد ہوئی، جس کا مقصد جنگ سے متاثرہ اور مالی مشکلات کا شکار نوجوانوں کو نئی زندگی کا آغاز کرنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔

تقریب میں شریک دلہنوں اور دلہوں کے چہروں پر خوشی، امید اور اطمینان نمایاں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں شادی جیسے اہم مرحلے کا ممکن ہونا کسی خواب سے کم نہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو نہ صرف مالی سہارا بلکہ حوصلہ افزائی اور نئی امید کا ذریعہ قرار دیا۔

یہ اجتماعی شادی دراصل اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ غزہ کے عوام تمام تر صیہونی مظالم، تباہی اور غیر انسانی حالات کے باوجود زندگی کو آگے بڑھانے کے عزم سے سرشار ہیں۔ مسلسل بمباری، بے گھری، خوراک کی قلت اور طبی سہولیات کی کمی کے باوجود ان کے چہروں کی مسکراہٹ ماند نہیں پڑی۔

منتظمین کے مطابق اس تقریب کا مقصد فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور انہیں عملی مدد فراہم کرنا ہے۔ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کی تقریبات کا انعقاد کیا جا چکا ہے، جن میں درجنوں جوڑوں کو نئی زندگی کا آغاز کرنے کا موقع ملا۔

غزہ، جہاں 20 لاکھ سے زائد افراد شدید انسانی بحران کا شکار ہیں، وہاں ایسی تقریبات نہ صرف خوشی کا باعث بنتی ہیں بلکہ یہ ایک مضبوط پیغام بھی دیتی ہیں کہ ظلم کے اندھیروں میں بھی امید کی شمع روشن رکھی جا سکتی ہے۔

یہ منظر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ صیہونی درندگی اور مسلسل مظالم کے باوجود غزہ کے عوام نہ صرف زندہ ہیں بلکہ باوقار، بہادر اور ایمانی جذبے کے ساتھ امن، محبت اور ایک بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں