بڑی خبر: اظہرالدین وزیر کی حیثیت سے برقرار رہیں گے! سابق کرکٹر اور کودنڈارام کی ایم ایل سی نامزدگی کو گورنر کی منظوری

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کی سیاست میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں گورنر شیو پرتاب شکلا نے گورنر کوٹے کے تحت دو اہم شخصیات کی قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) میں نامزدگی کو منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت سابق ہندوستانی کرکٹر محمد اظہر الدین اور معروف سماجی و سیاسی رہنما ایم کودنڈا رام کی نامزدگی کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔

یہ معاملہ گزشتہ سال 30 اگست سے زیر التوا تھا، جب تلنگانہ کابینہ نے ان دونوں ناموں کو گورنر کو منظوری کے لیے بھیجا تھا۔ تاہم فائل طویل عرصے تک زیر غور رہی اور اس پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا تھا۔ اب گورنر کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد یہ تعطل ختم ہو گیا ہے اور دونوں رہنماؤں کا قانون ساز کونسل میں داخلہ تقریباً یقینی ہو گیا ہے۔

اس فیصلے کی سب سے بڑی اہمیت محمد اظہر الدین کے سیاسی مستقبل سے جڑی ہوئی ہے، جو اس وقت ریاستی کابینہ میں وزیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آئینی اصول کے مطابق کسی بھی وزیر کو حلف لینے کے چھ ماہ کے اندر اسمبلی یا کونسل کا رکن بننا ضروری ہوتا ہے۔

اظہرالدین کے لیے یہ مدت 30 اپریل تک تھی، اور اگر اس سے پہلے وہ کسی ایوان کے رکن نہ بنتے تو انہیں وزارت سے استعفیٰ دینا پڑتا۔ گورنر کی حالیہ منظوری کے بعد اب ان کی ایم ایل سی رکنیت اور وزارت دونوں برقرار رہنے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے میں پیش رفت اس وقت آئی جب وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے خود گورنر سے ملاقات کر کے اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے زیر التوا فائلوں پر جلد فیصلہ لینے کی درخواست کی تھی، جس کے بعد گورنر نے دونوں ناموں کو منظوری دے دی۔

یہ فیصلہ نہ صرف حکومت کے لیے ایک بڑی راحت ہے بلکہ آئندہ دنوں میں ریاستی سیاست پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک طرف جہاں حکومت کو ایک اہم وزیر کو برقرار رکھنے میں کامیابی ملی ہے، وہیں کودنڈارام جیسے تجربہ کار رہنما کی کونسل میں شمولیت سے پالیسی سازی میں بھی تقویت ملنے کی توقع ہے۔

گورنر کی منظوری کے بعد تلنگانہ میں ایک اہم آئینی و سیاسی رکاوٹ دور ہو گئی ہے، اور اب دونوں نامزد امیدواروں کی قانون ساز کونسل میں شمولیت تقریباً طے ہے، جس سے ریاستی سیاسی منظرنامے میں استحکام آنے کی امید کی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں