تلنگانہ دسویں جماعت (ایس ایس سی) کے نتائج جاری: مجموعی کامیابی شاندار، مگر اردو میڈیم طلبا کی کم شرح باعثِ تشویش (تفصیلی خبر، محبان اردو ضرور پڑھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ ریاست میں دسویں جماعت (SSC) کے سال 2026 کے نتائج باضابطہ طور پر جاری کر دیے گئے ہیں۔ یہ نتائج ریاستی حکومت کے مشیر کے کیشور راؤ، محکمۂ تعلیم کی سیکریٹری یوگیتا رانا اور اسکول ایجوکیشن ڈائریکٹر نوین نکولس کی موجودگی میں اعلان کیے گئے۔

اس سال مجموعی طور پر 95.15 فیصد طلبا کامیاب قرار پائے، جو کہ ایک بہترین کارکردگی سمجھی جا رہی ہے۔ حسبِ روایت لڑکیوں نے ایک بار پھر سبقت حاصل کی، جہاں 96.26 فیصد طالبات کامیاب رہیں جبکہ 94.07 فیصد طلبا کامیاب ہوئے۔

ریاست بھر میں 5,731 اسکولوں میں 100 فیصد نتیجہ رہا، جبکہ 6 اسکول ایسے بھی رہے جہاں ایک بھی طالب علم کامیاب نہ ہو سکا، جو کہ تعلیمی نظام کے لیے ایک اہم سوالیہ نشان ہے۔

نتائج کے مطابق ملگ ضلع نے 99.30 فیصد کامیابی کے ساتھ پہلا مقام حاصل کیا، حیدرآباد ضلع 89.23 فیصد کے ساتھ سب سے پیچھے رہا وہیں سوشیل ویلفیئر گروکل اسکولوں میں 99.10 فیصد کامیابی قابلِ ذکر رہی۔

میڈیم کے اعتبار سے نتائج میں واضح فرق سامنے آیا ہے۔ انگلش میڈیم: 95.86 فیصد، تلگو میڈیم: 89.14 فیصد اور اردو میڈیم: 86.71 فیصد رہا۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اردو میڈیم طلبا کی کامیابی کی شرح دیگر میڈیم کے مقابلے میں کم رہی، جو کہ نہ صرف تعلیمی پسماندگی بلکہ زبان کے مستقبل کے حوالے سے بھی تشویشناک ہے۔

اردو میڈیم کی گرتی صورتحال: فوری توجہ کی ضرورت
یہ نتائج اردو داں طبقے کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہیں۔ اردو میڈیم طلبا کی کم شرح کامیابی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تعلیمی معیار میں بہتری کی ضرورت ہے، اساتذہ کی تربیت اور جدید وسائل کی کمی موجود ہے اور اردو میڈیم اسکولوں کو مناسب سرکاری توجہ نہیں مل رہی۔

اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو تلنگانہ میں اردو زبان کا تعلیمی مستقبل مزید کمزور ہو سکتا ہے۔ اردو میڈیم کے بہتر نتائج کےلئے اردو میڈیم اسکولوں میں معیاری اساتذہ کی تقرری، جدید ڈیجیٹل اور تعلیمی وسائل کی فراہمی، طلبا کے لیے خصوصی کوچنگ اور رہنمائی پروگرام کے علاوہ اردو زبان کے فروغ کے لیے حکومتی سطح پر ٹھوس پالیسیاں مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ وقت صرف تشویش کا نہیں بلکہ عملی اقدام کا ہے۔ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیب، شناخت اور ورثہ ہے۔ اس کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے ابھی سے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں اس قیمتی زبان سے محروم ہو سکتی ہیں۔

اردو کو بچانا ہے تو تعلیم کو مضبوط بنانا ہوگا ۔ ابھی اور اسی وقت۔

ری کاؤنٹنگ اور سپلیمنٹری امتحانات:

ری کاؤنٹنگ اور ری ویریفکیشن کے لیے 15 مئی تک درخواست دی جا سکتی ہے
ایڈوانس سپلیمنٹری امتحانات 5 جون سے 12 جون تک ہوں گے
فیس جمع کرنے کی آخری تاریخ 14 مئی مقرر کی گئی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں