ٹرمپ کا ایران پر دباؤ مزید سخت، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رکھنے کا اعلان، تہران کا بھی سخت ردعمل

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک تہران مکمل طور پر جوہری پروگرام ترک نہیں کرتا، اس وقت تک نہ کوئی معاہدہ ہوگا اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کی جائے گی۔

امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران کی اس تجویز کو مسترد کردیا جس میں آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکی دباؤ میں کمی کے بدلے مذاکرات کی پیشکش کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کا مؤقف بالکل واضح ہے: “پہلے ایران جوہری معاہدے پر آمادہ ہو، اس کے بعد ہی کسی قسم کی نرمی ممکن ہے۔”

صدر ٹرمپ نے موجودہ بحری ناکہ بندی کو “انتہائی مؤثر اور سو فیصد کامیاب حکمت عملی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فضائی حملوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران شدید معاشی اور عسکری دباؤ میں ہے اور اس کی تیل کی برآمدات تقریباً رک چکی ہیں، جس سے اس کے ذخائر اور پائپ لائنز پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنے “اہم اہداف تقریباً حاصل کر چکا ہے” اور ایرانی میزائل پروگرام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کے “82 فیصد میزائل تباہ” کیے جا چکے ہیں جبکہ اس کی فضائی اور بحری صلاحیتیں بھی تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ تاہم بعض بین الاقوامی ماہرین نے ان دعوؤں پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔

امریکی صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس بحران کے دوران انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم اور روسی صدر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ بات چیت براہ راست کے بجائے بالواسطہ اور “ٹیلی فونک چینلز” کے ذریعے جاری ہے۔

ادھر تہران نے امریکی موقف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ناکہ بندی برقرار رہی تو “غیر معمولی اور عملی ردعمل” دیا جائے گا۔ ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق ملک کی مسلح افواج اب تک تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہیں تاکہ سفارت کاری کو موقع دیا جا سکے، تاہم دباؤ میں مزید اضافہ ہوا تو سخت عسکری اقدامات خارج از امکان نہیں۔

علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھتے ہوئے 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں گزشتہ چار برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی توانائی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی ایک بڑی مقدار میں تیل اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں