حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں جاری بھوج شالا تنازعہ کیس میں مسلم فریق نے ایک اہم تاریخی دستاویز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مقام ماضی میں باقاعدہ مسجد قرار دیا جا چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ 1935 میں اُس وقت کی ریاست دھار کی عدالت نے ایک سرکاری اعلامیہ (اعلان) کے ذریعے اس متنازعہ مقام کو “مسجد” قرار دیا تھا، اور وہاں نماز جاری رکھنے کی بھی اجازت دی گئی تھی۔
یہ مقام، جسے ایک طرف ہندو فریق دیوی سرسوتی کا مندر قرار دیتا ہے، جبکہ مسلم فریق اسے کمال مولا مسجد کہتا ہے، عرصہ دراز سے تنازعہ کا مرکز رہا ہے۔
مسلم فریق کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ 1935 کا سرکاری ریکارڈ ایک اہم قانونی ثبوت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ اس معاملے کو عام مفاد (پبلک انٹرسٹ) کا مقدمہ بنانا مناسب نہیں، کیونکہ یہ مخصوص مذہبی برادریوں کے حقوق سے متعلق حساس معاملہ ہے۔
دوسری جانب ہندو تنظیموں کی جانب سے دائر درخواستوں میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ یہ دراصل قدیم مندر ہے اور یہاں صرف ہندوؤں کو عبادت کی اجازت ہونی چاہیے۔


