حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدہ تعلقات اور تعطل کا شکار مذاکرات کے پس منظر میں ایران نے ایک بار پھر سخت اور جارحانہ لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے ایک نئے اور “خوفناک” ہتھیار کو دنیا کے سامنے لانے کا عندیہ دیا ہے، جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ایرانی بحریہ کے سربراہ شہرام ایرانی نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بہت جلد ایک ایسا جدید ہتھیار متعارف کرائے گا جو اس کے دشمنوں کے لیے غیر متوقع اور انتہائی تشویشناک ہوگا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، “امید ہے کہ اس ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا۔”
ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ ہتھیار دشمن کے “بالکل قریب” مؤثر کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہوگا، جس سے ایران کی دفاعی اور جارحانہ قوت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ تاہم اس ہتھیار کی نوعیت، ٹیکنالوجی یا صلاحیتوں کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
شہرام ایرانی نے امریکا پر “بلا اشتعال جارحیت” کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے کم وقت میں اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر اب اس کی یہ حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے اور فوجی ماہرین کے نزدیک یہ ایک “لطیفہ” بن کر رہ گئی ہے۔
انہوں نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی افواج نے جوابی کارروائیوں کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو سات مرتبہ میزائل حملوں کا نشانہ بنایا، جس کے باعث عارضی طور پر وہاں سے فضائی آپریشنز متاثر ہوئے۔ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی بحریہ کے سربراہ کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی حالیہ کشیدگی کے بعد ایرانی مسلح افواج نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف “کم از کم 100 لہروں” کی صورت میں جوابی حملے کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں مغربی ایشیا کے وسیع جغرافیائی دائرے میں کی گئیں، جن میں حساس عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے ابتدائی ناکامیوں کے بعد خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، مزید جنگی بحری جہاز اور میزائل پلیٹ فارمز تعینات کیے گئے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ایران کے اس تازہ بیان کو محض عسکری اعلان کے طور پر نہیں بلکہ نفسیاتی اور سفارتی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد مذاکراتی عمل مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔


