یومِ تشکر: لندن کے معرکہِ ختمِ نبوت میں حق کی فتح اور باطل کی رسوائی

آج کا دن تمام مسلمانانِ عالم اور بالخصوص مجاہدینِ ختمِ نبوت کے لیے انتہائی اہمیت اور مسرت کا حامل ہے۔ آج دل خوشی سے لبریز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص نصرت سے ہمیں وہ کامیابی بخشی ہے جس نے تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔

تاریخ ساز بالمشافہ گفتگو: دلائلِ قاطع کا معرکہ

تقریباً 5 سے 6 گھنٹے پر محیط اس طویل اور تاریخی بالمشافہ گفتگو میں رفقائے ختمِ نبوت نے قرآن و حدیث کی روشنی میں وہ مدلل اور ٹھوس حقائق پیش کیے جن کے سامنے باطل ٹھہر نہ سکا۔ ایک طرف ایمان کا نور اور قرآن و سنت کے ناقابلِ تردید ثبوت تھے، تو دوسری طرف وہی پرانی من گھڑت تاویلیں اور قادیانیوں کا روایتی دجل و فریب تھا۔ مخالفین کے پاس علمی بنیاد پر کہنے کو کچھ نہ تھا اور وہ صرف “آئیں بائیں شائیں” کرتے رہ گئے۔

ہمارے اکابرین: اخلاص اور رعبِ ایمانی کا سنگم

اس عظیم الشان معرکے کو سرانجام دینے میں ہمارے اساتذہ کا کردار سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے:
حضرت مولانا سہیل باوا (دامت برکاتہم): آپ کی پوری زندگی اس عظیم مقصد کے لیے وقف ہے۔ اس گفتگو کے دوران آپ جسمانی طور پر موجود نہ ہونے کے باوجود مخالفین کے حواس پر چھائے رہے۔ یہ آپ کے اخلاص کا رعب اور دبدبہ ہے کہ وہ ہر وقت آپ ہی کا تذکرہ کرتے رہے۔

حضرت عبد الرحمٰن باوا (دامت برکاتہم) : یہ درحقیقت ان کی زندگی بھر کی محنت کا فیض ہے کہ اللہ پاک نے ان کے فرزندِ ارجمند اور رفقاء سے وہی کام لیا جس کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کی تھی۔

بھائی عدنان رشید اور بھائی محمد امتیاز احمد: ان نوجوانوں نے اپنے رفقاء کے ہمراہ وہ معرکہ سرانجام دیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔

تین دہائیوں بعد اتمامِ حجت
آج تین دہائیوں کے طویل انتظار کے بعد رفقائے ختمِ نبوت کی جانب سے حجت تمام کر دی گئی ہے۔ پیغامِ حق کو واضح کر کے دعوتِ حق دے دی گئی ہے۔ اب ہدایت دینا اللہ پاک کا کام ہے، ہمارا فرض صرف پیغام پہنچانا تھا جو بحمد اللہ مکمل ہوا۔

اللہ کے شیروں کو خراجِ تحسین
ان غازیوں اور مجاہدینِ ختمِ نبوت کے لیے بس یہی کہا جا سکتا ہے: باطل سے ڈرنے والے اے آسماں نہیں ہم، سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

اور ان کی ایمانی ہیبت کے لیے علامہ اقبال کے یہ الفاظ: یہ غازی، یہ تیرے پُراسرار بندے ’‘ جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا ’‘ سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

آج کا یہ یومِ تشکر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب تک ناموسِ رسالتﷺ کے یہ پہرے دار بیدار ہیں، کوئی فتنہ امتِ مسلمہ کے ایمان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اساتذہ اور ان تمام رفقاء کی اس کاوش کو قبول و منظور فرمائے۔
تاجدارِ ختمِ نبوت ﷺ زندہ باد!
رفقائے ختمِ نبوت زندہ باد!
وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلٰغُ

از قلم
رابعہ بصری

اپنا تبصرہ بھیجیں