تلنگانہ حکومت کا بڑا فیصلہ متوقع، بے روزگار نوجوانوں کےلئے خوشخبری!

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ حکومت بے روزگار نوجوانوں کو راحت دینے کے لیے سرکاری ملازمتوں میں عمر کی حد بڑھانے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاستی حکومت مختلف زمروں کے امیدواروں کے لیے عمر میں پانچ سے دس سال تک رعایت دینے کی تجویز پر غور کر رہی ہے، جس سے ہزاروں امیدواروں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔

ریاستی حکومت نے 2022 میں بے روزگار نوجوانوں کے لیے عمر میں خصوصی رعایت دی تھی، تاہم اس رعایت کی مدت رواں سال فروری میں ختم ہو گئی۔ اس کے بعد سے مسلسل مختلف طلبہ تنظیمیں، سیاسی رہنما اور سماجی تنظیمیں حکومت سے مطالبہ کر رہی تھیں کہ عمر کی حد میں دوبارہ نرمی کی جائے کیونکہ سرکاری ملازمتوں کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کے سبب کئی امیدوار عمر کی حد عبور کر چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت اس وقت دو تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ پہلی تجویز کے تحت جنرل زمرے کے امیدواروں کو پانچ سال کی اضافی رعایت دی جا سکتی ہے، جبکہ درج فہرست ذاتوں (SC)، درج فہرست قبائل (ST)، پسماندہ طبقات (BC) اور اقتصادی طور پر کمزور طبقات (EWS) کے امیدواروں کے لیے دس سال تک عمر میں نرمی دیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔

اس سے قبل جنرل امیدواروں کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر 44 سال، ریزرو زمرے کے امیدواروں کے لیے 49 سال اور معذور امیدواروں کے لیے 54 سال مقرر تھی۔ طلبا تنظیموں کا مؤقف ہے کہ تمام طبقات کے امیدواروں کو یکساں طور پر دس سال کی رعایت دی جانی چاہیے تاکہ گزشتہ برسوں میں بھرتیوں میں تاخیر سے متاثر ہونے والے تمام نوجوانوں کو برابر کا موقع مل سکے۔

حال ہی میں کئی ارکان اسمبلی اور قانون ساز کونسل نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی سے ملاقات کر کے عمر میں نرمی کی درخواست کی تھی۔ اسی طرح ایم ایل سی کودنڈا رام اور اڈنکی دیاکر نے نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرمارکا سے ملاقات کر کے اس مسئلے کو اٹھایا تھا۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے ان مطالبات پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے اور جلد ہی اس سلسلے میں باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ اگر یہ فیصلہ نافذ ہوتا ہے تو ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے لیے دوبارہ درخواست دینے کا موقع مل سکے گا، جس سے ریاست میں روزگار کے امکانات میں اضافہ ہونے کی امید ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں