حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایک مسلم سرکاری اسکول ٹیچر کے خلاف صرف اردو نظم شیئر کرنے پر درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اہم تبصرہ کیا ہے کہ کسی نظم کو بغیر اشتعال انگیزی یا نفرت پھیلانے کے ارادے کے شیئر کرنا فرقہ وارانہ منافرت یا عوامی فساد پھیلانے کے زمرے میں نہیں آتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اظہارِ رائے کی آزادی، ادبی تخلیقات اور قانون کے غلط استعمال جیسے اہم پہلوؤں کو نمایاں طور پر اجاگر کیا۔ جسٹس بی پی شرما نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری اسکول کے استاد فیضان انصاری کی جانب سے شاعر شعیب کینی کی اردو نظم ’’بے حیا‘‘ کو واٹس ایپ اسٹیٹس پر شیئر کرنا کسی بھی طرح نفرت انگیزی یا عوامی شر پھیلانے کی کوشش قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ نظم میں خواتین پر تشدد، انسانی حقوق اور سماجی مسائل کا ذکر تھا اور اس میں کسی مذہب، فرقے یا برادری کو نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔ یہ معاملہ جولائی 2025 کا ہے جب فیضان انصاری نے واٹس ایپ اسٹیٹس پر نظم کی ویڈیو شیئر کی تھی۔
بعد ازاں پولیس نے انہیں طلب کر کے ان کا موبائل فون ضبط کر لیا اور ان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ 353(2) کے تحت مقدمہ درج کیا۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ نظم قابل اعتراض اور ایک استاد کے منصب کے خلاف ہے۔ فیضان انصاری نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف کارروائی غیر ضروری اور ہراسانی پر مبنی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس کارروائی کے بعد انہیں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سماعت کے دوران عدالت نے بنیادی سوال اٹھایا کہ کیا کسی ادبی نظم کو بغیر کسی اشتعال انگیز تبصرے کے شیئر کرنا فوجداری جرم بن سکتا ہے؟ عدالت نے اس نکتے پر زور دیا کہ تقریر یا اظہارِ رائے سے متعلق جرائم صرف قیاس آرائیوں یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر قائم نہیں کیے جا سکتے بلکہ اس کے لیے واضح ثبوت ضروری ہوتے ہیں کہ ملزم کا مقصد تشدد یا فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دینا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مذکورہ نظم ہندوستان کے مختلف اردو ادبی پلیٹ فارمز پر پہلے سے موجود ہے اور اسے بین الاقوامی اردو ادبی فیسٹیول میں بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود ایف آئی آر میں کوئی ایسا مواد پیش نہیں کیا گیا جس سے ثابت ہو کہ نظم عوامی امن کو خراب کر سکتی تھی۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’نظم کو مجموعی طور پر پڑھنے سے اس بات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اسے اس انداز میں قابل اعتراض قرار دیا جائے جیسا کہ ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے۔‘‘ عدالت نے نہ صرف ایف آئی آر اور اس سے متعلق تمام کارروائیوں کو منسوخ کر دیا بلکہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ہدایت دی کہ ضرورت پڑنے پر فیضان انصاری کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کا ضبط شدہ موبائل فون واپس کیا جائے۔


