فرقہ وارانہ منافرت کی خطرناک مثال! اترپردیش میں بزرگ مسلم دکاندار پر حملہ، داڑھی کھینچی گئی، ٹوپی چھینی گئی اور ’’پاکستان جاؤ‘‘ کے نعرے

حیدرآباد (دکن فائلز) مسلم مرر کی رپورٹ کے مطابق اترپردیش کے ضلع پرتاپ گڑھ میں ایک بزرگ مسلم خوانچہ فروش کے ساتھ مبینہ طور پر انتہائی شرمناک سلوک کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ شخص نے الزام لگایا ہے کہ انہیں نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ مذہبی بنیاد پر گالیاں دی گئیں، داڑھی کھینچی گئی، ٹوپی چھین لی گئی اور ’’پاکستان جاؤ‘‘ جیسے اشتعال انگیز نعرے بھی لگائے گئے۔

اطلاعات کے مطابق مقصود علی نامی بزرگ خوانچہ فروش دو مئی کو شام تقریباً چار بجے اپنا روزگار ختم کر کے گھر واپس جا رہے تھے کہ راستے میں منوج نامی شخص نے انہیں روک لیا۔ متاثرہ شخص کے مطابق بغیر کسی اشتعال کے حملہ آور نے ان پر بدزبانی شروع کر دی اور پھر لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے حملہ کر دیا۔

مقصود علی نے بتایا کہ حملہ آور نے ان کی داڑھی کھینچی، سر سے ٹوپی اتار کر پھینک دی اور فرقہ وارانہ جملے کستے ہوئے کہا، ’’یہاں کیا کر رہے ہو؟ پاکستان چلے جاؤ۔‘‘ متاثرہ بزرگ کے مطابق حملہ آور نے ان کے چہرے کو بگاڑ دینے کی دھمکی بھی دی۔

حملے کے دوران حملہ آور نے ان سے تقریباً دس ہزار روپے بھی چھین لیے جو انہوں نے دن بھر محنت مزدوری کے بعد کمائے تھے۔ بزرگ شخص کسی طرح وہاں سے جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہوئے جب ایک اور شخص موقع پر پہنچ گیا۔

شدید زخمی حالت میں گھر پہنچنے کے بعد مقصود علی نے مقامی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے افسردگی کے عالم میں کہا، ’’میں ایک غریب آدمی ہوں، کیا کروں؟ روزی کماؤں یا ان معاملات کے پیچھے بھاگوں؟‘‘

اس واقعہ کے بعد علاقے میں خوف اور تشویش کی فضا پائی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں نے اس واقعہ کو فرقہ وارانہ نفرت کی خطرناک مثال قرار دیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاحال پولیس کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی کسی گرفتاری کی اطلاع دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں