اقلیتی طلبا کے لیے ریونت ریڈی حکومت کا بڑا اعلان، خصوصی ڈگری کالجس، اے آئی ٹریننگ فراہم کرنے اور امام مؤذنین کو اعزازی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کی ہدایت

حیدرآباد (دکن فائلز) حکومتِ تلنگانہ نے اقلیتی طلبہ کی تعلیم، روزگار اور ہنرمندی کو فروغ دینے کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے اقلیتی فلاح و بہبود محکمہ کے جائزہ اجلاس میں حکام کو ہدایت دی کہ اقلیتی نوجوانوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات فوری طور پر نافذ کیے جائیں۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ ریاست کے مشترکہ ضلعی مراکز میں اقلیتی طلبہ کے لیے خصوصی ڈگری کالجس قائم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ روایتی کورسز کے ساتھ ساتھ اسکل ڈیولپمنٹ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ طلبہ کو جدید تقاضوں کے مطابق روزگار کے مواقع حاصل ہوسکیں۔

حکام کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ ایسے کورسز تیار کیے جائیں جن سے طلبہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بہتر ملازمتیں حاصل کرسکیں اور خود روزگار کی طرف بھی راغب ہوں۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اقلیتی نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے لیس کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔

ریاستی حکومت نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے اقلیتی طلبہ کے لیے خصوصی مراعات اور انعامات دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جس طرح بی سی، ایس سی اور ایس ٹی طلبہ کے لیے خصوصی اسکیمات نافذ ہیں، اسی طرز پر اقلیتی طلبہ کے لیے بھی نئی اسکیم متعارف کرائی جائے۔

اجلاس میں گروپ-1، گروپ-2 اور گروپ-3 امتحانات میں منتخب ہونے والے اقلیتی امیدواروں کو محکمہ جاتی ذمہ داریاں دینے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان امیدواروں کو محکمہ جاتی سرگرمیوں سے براہِ راست واقف کرایا جانا چاہیے تاکہ وہ انتظامی امور کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔

وزیراعلیٰ نے ائمہ مساجد اور مؤذنین کو دی جانے والی اعزازی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ اقلیتی تعلیمی اداروں میں جدید تدریسی طریقے نافذ کرنے پر زور دیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے موسیٰ ندی فرنٹ کی ترقیاتی اسکیم کے تحت مندر، مسجد، چرچ اور گرودوارہ کی تعمیرات کی بھی ہدایت دی تاکہ تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب کو اجاگر کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذہبی مقامات ہندوستانی تہذیب، ثقافت اور مختلف مذاہب کی ہم آہنگی کی علامت بننے چاہئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں