موسمِ گرما میں سوئمنگ پول بچوں کی آنکھوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، ماہرین کی اہم وارننگ

حیدرآباد (دکن فائلز) گرمیوں کی تعطیلات شروع ہوتے ہی بچے کھیل کود اور تیراکی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں بچے کنوؤں اور تالابوں کا رخ کرتے ہیں جبکہ شہروں، خاص طور پر حیدرآباد میں سوئمنگ پولس میں کافی بھیڑ دیکھی جا رہی ہے۔ بڑھتی مانگ کے باعث شہر میں نجی سوئمنگ پولس کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تاہم ماہرین صحت نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ لاپرواہی بچوں کی آنکھوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

ایل وی پرساد آئی انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ سوئمنگ پولس میں “اکانتھامیبا” نامی خطرناک جرثومہ پایا جا سکتا ہے جو آنکھوں میں شدید انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔ تحقیق کے مطابق کارنیل انفیکشن کے شکار مریضوں میں تقریباً ایک تہائی افراد آلودہ پانی کے ذریعے اس بیماری میں مبتلا ہوئے۔

ماہرین کے مطابق کانٹیکٹ لینس استعمال کرتے ہوئے تیراکی کرنا مزید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹروں نے بچوں اور بڑوں دونوں کو سوئمنگ کے دوران حفاظتی گوگلز استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گوگلز صرف سہولت کے لیے نہیں بلکہ آنکھوں کو انفیکشن سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق سوئمنگ پولس میں جراثیم کشی کے لیے کلورین استعمال کی جاتی ہے، لیکن اس کی زیادہ مقدار آنکھوں کی قدرتی حفاظتی تہہ یعنی آنسوؤں کی تہہ کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں آنکھوں میں جلن، سرخی، خارش، سوجن، دھندلا پن اور دیگر انفیکشنز پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے مشورہ دیا کہ تیراکی کے فوراً بعد صاف پانی سے آنکھیں دھونا ضروری ہے تاکہ کلورین اور جراثیم کے اثرات کم کیے جا سکیں۔ ڈاکٹروں نے والدین کو ہدایت دی ہے کہ اگر بچوں کو کھانسی، زکام، بخار، ناک بہنے یا آنکھوں سے پیپ آنے جیسی علامات ہوں تو انہیں سوئمنگ پول نہ لے جائیں، کیونکہ اس سے انفیکشن دوسروں تک بھی پھیل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ دیر تک سوئمنگ پول میں رہنے سے بچوں کی آنکھوں میں خارش اور جلن پیدا ہو سکتی ہے، ایسی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے آئی ڈراپس استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین نے والدین کو تاکید کی کہ بچوں کو کبھی اکیلا نہ چھوڑیں اور اس بات کی جانچ کریں کہ پول کا عملہ سی پی آر اور ابتدائی طبی امداد کی تربیت رکھتا ہو۔

دوسری جانب سوئمنگ پول مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ پانی کا pH لیول 7.2 سے 7.8 کے درمیان رکھا جائے جبکہ کلورین کی مقدار 0.2 سے 0.5 ملی گرام فی لیٹر تک محدود ہو۔ گرمیوں میں ہر دو سے تین گھنٹے بعد پانی کی جانچ ضروری قرار دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں