حیدرآباد / کڑپہ (دکن فائلز نمائندہ سردار کی رپورٹ) آندھرا پردیش کے ضلع کڑپہ میں واقع الماس پیٹ سرکل کے نام کی تبدیلی کو لے کر شہر میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔ جمعہ کے روز الماس پیٹ سرکل کے قریب دو طبقوں کے درمیان زبردست احتجاج، نعرے بازی اور پتھراؤ کے واقعات پیش آئے، جس کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے اور پولیس کو بھاری نفری تعینات کرنی پڑی۔
اطلاعات کے مطابق الماس پیٹ سرکل، جو مسلم اکثریتی علاقہ میں واقع ہے، کو “ٹیپو سلطان سرکل” کا نام دینے کے مسئلے پر گزشتہ کئی دنوں سے تنازعہ جاری تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ 2024 کے انتخابات کے دوران این چندرا بابو نائیڈو نے وعدہ کیا تھا کہ الماس پیٹ سرکل کا نام تبدیل کرکے “ٹیپو سلطان سرکل” رکھا جائے گا۔ بعد ازاں میونسپل کارپوریشن کی جنرل باڈی میٹنگ میں اس تجویز کو منظوری بھی دے دی گئی تھی۔
تاہم بعض ہندو تنظیموں اور ہندوتوا کارکنوں نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے سرکل کا نام “ہنومان سرکل” رکھنے کا مطالبہ شروع کردیا۔ ذرائع کے مطابق 10 مئی کو ہنومان جینتی کے موقع پر سرکل کا نام تبدیل کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا، جس کے بعد ماحول مزید گرم ہوگیا۔
جمعہ کی صبح سے ہی مسلم طبقے کے افراد بڑی تعداد میں الماس پیٹ سرکل پر جمع ہونا شروع ہوگئے۔ کچھ ہی دیر بعد دوسرے طبقے کے افراد بھی وہاں پہنچ گئے، جس کے نتیجے میں دونوں جانب شدید نعرے بازی اور احتجاج شروع ہوگیا۔ حالات اس وقت بے قابو ہوگئے جب مشتعل افراد نے ایک دوسرے پر پتھراؤ شروع کردیا۔
پتھراؤ کے دوران تعلقہ سرکل انسپکٹر نرسمہا راجو شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس نے فوری طور پر حالات کو قابو میں لینے کی کوشش کی اور کئی مقامات پر لاٹھی چارج بھی کیا۔ شہر میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے اضافی پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق الماس پیٹ سرکل سے تقریباً 100 میٹر کی دوری پر کچھ عرصہ قبل ایک مندر تعمیر کیا گیا تھا، جس کے بعد سے علاقے میں ماحول کشیدہ بتایا جا رہا ہے۔ دونوں طبقے اپنے اپنے مطالبات پر قائم ہیں۔ ایک طبقہ “ٹیپو سلطان سرکل” کے فیصلے پر عمل آوری کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ “ہنومان سرکل” یا پھر سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کے نام پر سرکل رکھنے کی بات کر رہا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں سے بات چیت جاری ہے اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم دوپہر تک مسئلے کا کوئی مستقل حل سامنے نہیں آسکا تھا اور علاقے میں کشیدگی برقرار رہی۔ انتظامیہ نے عوام سے افواہوں پر یقین نہ کرنے اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے جبکہ حساس علاقوں میں نگرانی مزید سخت کردی گئی ہے۔


