حیدرآباد (دکن فائلز) مسلمانوں کے خلاف مبینہ نفرت انگیز بیانات کےلئے مشہور اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ و بی جے پی کے سینئر رہنما بنڈی سنجے کے بیٹے بندی سائی بھگیرت کے خلاف تلنگانہ پولیس نے پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی کے اتوار 10 مئی کو حیدرآباد دورے اور عوامی جلسے کی تیاریاں جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق ایک 17 سالہ لڑکی کی شکایت پر پیٹ بشیرآباد پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ لڑکی کو فارم ہاؤس لے جا کر مبینہ طور پر شراب پلائی گئی اور اس کے بعد اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ واقعہ دو مرتبہ پیش آیا۔
پولیس نے بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کی دفعات 74 اور 75 کے علاوہ پوکسو ایکٹ کی دفعات 11 اور 12 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اگرچہ پولیس نے سرکاری طور پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والدین نے عدالت سے رجوع کرنے کی دھمکی دی، جس کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔
دوسری جانب بندی سنجے کے بیٹے بندی سائی بھگیرت نے اس معاملے کو “ہنی ٹریپ” اور بھتہ خوری کی سازش قرار دیا ہے۔ ایف آئی آر درج ہونے سے چند گھنٹے قبل انہوں نے کریم نگر کے ٹو ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں لڑکی، اس کی والدہ اور والد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔
اپنی شکایت میں بھگیرت نے دعویٰ کیا کہ ان کی لڑکی سے دوستی مشترکہ دوستوں کے ذریعے ہوئی تھی اور دونوں خاندانوں کے درمیان قریبی روابط قائم ہوگئے تھے۔ ان کے مطابق وہ مختلف مذہبی مقامات جیسے وجئے واڑہ، اروناچلم اور تروملا کے سفر بھی ایک گروپ کے طور پر کرتے رہے۔
بھاگیرتھ نے الزام لگایا کہ بعد میں لڑکی کے والدین نے ان پر شادی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کردیا اور انکار پر جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ خوف کے باعث وہ پہلے ہی 50 ہزار روپے دے چکے ہیں جبکہ اب ان سے 5 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے چند دوست بھی اسی خاندان کی جانب سے پہلے ہراسانی کا شکار ہوچکے ہیں اور اس سلسلے میں نرمل ضلع میں بھی شکایت درج کرائی گئی تھی۔ یہ تنازعہ سامنے آنے کے بعد بی جے پی کے اندرونی اختلافات کی بازگشت بھی سنائی دینے لگی ہے۔ پارٹی کے بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ معاملہ اندرونی گروپ بندی کا نتیجہ ہوسکتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس کیس نے سیاسی ہلچل پیدا کردی ہے۔
اس تنازعے نے بندی سائی بھگیرت کے اُس پرانے ویڈیو معاملے کو بھی دوبارہ موضوعِ بحث بنا دیا ہے جس میں انہیں مہندرا یونیورسٹی کے طلبا پر مبینہ حملے کے ایک واقعہ سے جوڑا گیا تھا۔


