حیدرآباد (دکن فائلز) گودا کے رہنے والے محمد فیضان اللہ نے ثابت کر دیا کہ جسمانی معذوری انسان کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتی۔ سیریبرل پالسی جیسی پیچیدہ بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود انہوں نے دسویں جماعت کے بورڈ امتحان میں 93 فیصد نمبر حاصل کر کے معذور زمرے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔
بی بی سی ہندی کی رپورٹ کے مطابق محمد فیضان اللہ بچپن ہی سے سیریبرل پالسی کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اس بیماری کی وجہ سے ان کے ہاتھ اور پیر عام بچوں کی طرح کام نہیں کرتے۔ وہ نہ آسانی سے چل سکتے ہیں اور نہ ہی زیادہ دیر بیٹھ سکتے ہیں، لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود انہوں نے تعلیم کا سفر جاری رکھا۔
فیضان اللہ نے لکھنے کے لیے ایک منفرد طریقہ اپنایا۔ چونکہ وہ ہاتھ سے قلم نہیں پکڑ سکتے تھے، اس لیے انہوں نے منہ میں قلم دبا کر لکھنے کی مسلسل مشق کی۔ ابتدا میں یہ عمل انتہائی مشکل تھا، مگر آہستہ آہستہ انہوں نے ایسی مہارت حاصل کر لی کہ ان کی لکھائی عام طلبہ جیسی دکھائی دینے لگی۔
ان کے والد محمد انور عالم ایک نجی مدرسے میں تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں۔ خاندان کو اس بیماری کا پتہ اس وقت چلا جب فیضان اللہ صرف چھ ماہ کے تھے اور ان کے جسم میں حرکت بہت کم محسوس ہو رہی تھی۔ ڈاکٹروں نے معائنہ کے بعد بتایا کہ بچہ سیریبرل پالسی کا شکار ہے۔
فیضان اللہ کی والدہ نجمہ کے مطابق خاندان نے مایوس ہونے کے بجائے بیٹے کی تعلیم پر توجہ دی۔ والد نے گھر پر ہی اردو، عربی، ہندی، انگریزی اور ریاضی کی ابتدائی تعلیم دینی شروع کی کیونکہ وہ باقاعدگی سے اسکول نہیں جا سکتے تھے۔
بعد ازاں ان کی زندگی میں خصوصی استاد جتیندر کمار بھگت کی آمد ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ استاد نے ان کی ذہانت کو پہچانا اور مختلف طریقوں سے لکھنے کی تربیت دینے کی کوشش کی۔ کئی ناکام تجربات کے بعد ایک دن انہوں نے قلم کو فیضان اللہ کے دانتوں کے درمیان رکھ کر لائنیں کھنچوانے کی مشق کروائی، جو بعد میں کامیابی کی بنیاد بن گئی۔
مسلسل محنت کے بعد فیضان اللہ نہ صرف روانی سے لکھنے لگے بلکہ تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ انہوں نے آٹھویں جماعت میں اسکول ٹاپ کیا اور بعد میں “تعلیم کی اہمیت” کے موضوع پر ضلعی تقریری مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
انعام میں ملنے والے لیپ ٹاپ نے ان کی تعلیم کو نئی سمت دی۔ انہوں نے کمپیوٹر، پاور پوائنٹ، ایم ایس ایکسل اور مصنوعی ذہانت کے استعمال تک سیکھ لیا۔ وہ نصابی کتابوں کی پی ڈی ایف فائلیں استعمال کرتے، سوالات تیار کرتے اور خود ہی انہیں حل کرنے کی مشق کرتے تھے۔
بورڈ امتحان میں انہیں رائٹر کی سہولت حاصل تھی، لیکن انہوں نے زیادہ تر پرچے خود لکھنے کا فیصلہ کیا۔ خاص طور پر ریاضی کے امتحان میں انہوں نے مکمل پرچہ خود حل کیا اور 98 نمبر حاصل کیے۔
محمد فیضان اللہ کی کامیابی صرف ایک طالب علم کی کامیابی نہیں بلکہ یہ ہر اُس نوجوان کے لیے امید، محنت اور خود اعتمادی کا پیغام ہے جو مشکلات کے سامنے ہار ماننے لگتا ہے۔ ان کی جدوجہد ثابت کرتی ہے کہ مضبوط ارادے اور مسلسل محنت کے ذریعے ناممکن راستے بھی آسان بنائے جا سکتے ہیں۔


