حیدرآباد (دکن فائلز) ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ بندی اور امن مذاکرات سے متعلق پیش کی گئی تجاویز کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں “ناقابلِ قبول” قرار دے دیا ہے۔ امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکا اور عالمی برادری کے ساتھ صرف وقت گزاری کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کے نمائندوں کی جانب سے موصول ہونے والا جواب پڑھا، مگر اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو امریکا کے لیے قابلِ قبول ہو۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور واشنگٹن تہران کی افزودہ یورینیم صلاحیت ختم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
امریکی صدر نے سابق صدر بارک اوباما کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اوباما انتظامیہ نے ایران کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا اور تہران کو اربوں ڈالر کی مراعات دے کر خطے میں طاقتور بنایا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا پہلے ہی ایران کے تقریباً ستر فیصد فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو آئندہ دو ہفتوں کے دوران مزید کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی امریکی تجاویز مسترد کرتے ہوئے انہیں “ہتھیار ڈالنے کے مترادف” قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکا کی شرائط ناقابلِ قبول ہیں کیونکہ ان میں ایران کے دفاعی اور جوہری حقوق کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ایران نے اپنے جواب میں مطالبہ کیا ہے کہ امریکا جنگ سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرے، تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرے اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرے۔ تہران نے واضح کیا کہ جب تک بحری محاصرہ ختم نہیں کیا جاتا اور ایرانی تیل کی برآمدات بحال نہیں ہوتیں، اس وقت تک کسی معاہدے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ “مذاکرات کا مطلب ہرگز ہتھیار ڈالنا نہیں۔ ایران کبھی دشمن کے سامنے جھکے گا نہیں۔”
اسی دوران نتین یاہو نے بھی اعلان کیا ہے کہ جب تک ایران کے یورینیم ذخائر مکمل طور پر ختم نہیں کیے جاتے اور جوہری تنصیبات تباہ نہیں ہوتیں، جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ ایران عارضی طور پر یورینیم افزودگی محدود کرنے پر آمادہ ہے، تاہم اس نے امریکا کا یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ آئندہ بیس برس تک یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔ اخبار کے مطابق ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں تو بیرونِ ملک منتقل کیا گیا یورینیم دوبارہ تہران کے حوالے کیا جائے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران نے اہم بحری راستے پر نگرانی سخت کر دی ہے جبکہ امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ صورتحال کے پیش نظر برطانیہ اور فرانس نے تقریباً چالیس ممالک کے وزرائے دفاع کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عالمی تجارتی گزرگاہوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی ضد اور سخت مؤقف کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششیں شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہیں جبکہ ایک بار پھر بڑے فوجی تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔


