بنڈی سنجے کے بیٹے کے خلاف پوکسو کیس: اسدالدین اویسی کا کے ٹی آر پر بڑا حملہ

حیدرآباد (دکن فائلز) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمار کے بیٹے بنڈی بھاگیرتھ کے خلاف درج پوکسو کیس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی آر ایس قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اویسی نے کہا کہ بی آر ایس کے موجودہ قائدین، خاص طور پر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر)، “کمزور یادداشت” کا شکار ہوگئے ہیں، اسی لیے سابق وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کو دوبارہ پارٹی کی باگ ڈور سنبھال لینی چاہیے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بی آر ایس رہنماؤں نے اویسی پر الزام عائد کیا کہ وہ بنڈی سنجے کے بیٹے کے خلاف درج پوکسو کیس پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بی آر ایس نے سوال اٹھایا تھا کہ خواتین اور بچوں کے تحفظ جیسے حساس مسئلے پر مجلس کیوں خاموش ہے۔

اویسی نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانون اپنا کام کر رہا ہے اور اس معاملے میں پولیس پہلے ہی مقدمہ درج کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے بھی کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ حکومت نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دے دی ہے جو ڈپٹی کمشنر آف پولیس رتی راج گائیکواڑ کی نگرانی میں تحقیقات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب قانونی عمل جاری ہے تو سیاسی ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اویسی کے مطابق بی آر ایس دراصل اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین واپس حاصل کرنے کیلئے اس معاملے کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔

اسدالدین اویسی نے بی آر ایس حکومت کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ایک سرکاری بورڈ کے چیئرمین کے بیٹے پر سنگین الزامات لگے تھے، لیکن اُس وقت بی آر ایس حکومت نے کیا کارروائی کی تھی؟ اویسی نے سوال کیا کہ آج وہی جماعت دوسروں کو اخلاقیات کا درس دے رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بی آر ایس اپنے دورِ حکومت میں اپنے قریبی افراد کو بچاتی رہی، اس لیے اب ان کی تنقید محض سیاسی مفاد پر مبنی محسوس ہوتی ہے۔

دوسری جانب بنڈی بھاگیرتھ نے اپنے خلاف درج مقدمے کو سیاسی سازش قرار دیتے ہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ الزامات جھوٹے اور سیاسی طور پر محرک ہیں۔

یہ معاملہ تلنگانہ کی سیاست میں ایک نئی بحث کا سبب بن گیا ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ عوام کی نظریں اب پولیس تحقیقات اور عدالت کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں