اترپردیش مدرسہ میں ’میڈ اِن پاکستان‘ Made in Pakistan پنکھا ملنے پر غیرضروری ہنگامہ

حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش کے ضلع کشی نگر میں ایک مدرسے میں موجود چھت کے پنکھے پر “Made in Pakistan” لکھا ہونے کا انکشاف سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کردیں۔ تاہم ابتدائی جانچ کے بعد حکام نے کہا ہے کہ کسی غیر قانونی سرگرمی یا مشتبہ تعلقات کے شواہد نہیں ملے۔

یہ معاملہ ضلع کشی نگر کے وشن پورہ تھانہ حدود میں واقع مدرسہ قادریہ حقیقت العلوم میں سامنے آیا، جہاں گرمی کے باعث خراب ہونے والے تین پنکھے مرمت کیلئے مقامی ورکشاپ بھیجے گئے تھے۔ مرمت کے دوران مکینک اکبر نے ایک پنکھے کے پچھلے حصے پر “Made in Pakistan” کا لیبل دیکھا، جس کے بعد اس کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

ویڈیو اور تصاویر پھیلتے ہی مقامی سطح پر چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں اور بعض افراد نے پولیس کو اطلاع دی۔ اس کے بعد وشن پورہ پولیس نے مدرسے پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کیا اور مدرسہ انتظامیہ سے وابستہ دو افراد کو پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیا۔

پولیس کے مطابق مدرسہ منیجر محمد یونس اور مقامی شخص شمس الدین سے سوالات کیے گئے، کیونکہ شمس الدین نے ہی یہ پنکھا مدرسے کو عطیہ کیا تھا۔ پوچھ گچھ میں بتایا گیا کہ شمس الدین کا بیٹا واجد انصاری گزشتہ کئی برسوں سے سعودی عرب میں مزدوری کرتا ہے اور اس نے 2020 میں سعودی عرب سے یہ پنکھا خریدا تھا۔

اہل خانہ کے مطابق پنکھا دیگر گھریلو سامان کے ساتھ کارگو سروس کے ذریعے ہندوستان بھیجا گیا تھا، جسے بعد میں 2023 میں مدرسے کو عطیہ کردیا گیا تاکہ گرمی کے موسم میں طلبہ کیلئے سہولت فراہم کی جاسکے۔

پولیس نے ویڈیو کال کے ذریعے سعودی عرب میں مقیم واجد انصاری سے بھی رابطہ کیا اور خریداری و ترسیل سے متعلق دستاویزات طلب کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کاغذات کی جانچ کے بعد کسی غیر قانونی سرگرمی یا مشتبہ معاملے کے شواہد نہیں ملے، جس کے بعد دونوں زیر حراست افراد کو رہا کردیا گیا۔

مدرسہ کے استاد محمد معراج الدین نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مدرسہ مقامی عطیات کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور طلبہ کیلئے پنکھوں کی ضرورت کے پیش نظر لوگوں سے مدد کی اپیل کی گئی تھی۔ ان کے مطابق متعلقہ پنکھا تقریباً ڈیڑھ سال سے استعمال میں تھا اور حال ہی میں خراب ہونے پر مرمت کیلئے بھیجا گیا تھا۔

اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر مذہبی اداروں سے متعلق پھیلائی جانے والی خبروں اور افواہوں پر بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی افراد نے سوال اٹھایا کہ ایک عام تجارتی چیز کو بغیر مکمل جانچ کے تنازع میں تبدیل کردیا گیا، جبکہ بعض حلقوں نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ جاری ہے، تاہم اب تک کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی سامنے نہیں آئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں