حیرت انگیز خبر: کیا اسمارٹ فون دنیا کی آبادی کم کر رہے ہیں؟ نئی تحقیق نے چونکا دینے والے سوالات اٹھا دیے

حیدرآباد (دکن فائلز) دنیا بھر میں شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی کے درمیان ایک نئی تحقیق نے اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے کردار پر بحث چھیڑ دی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور آن لائن طرزِ زندگی نوجوانوں کے سماجی رویوں میں ایسی تبدیلیاں لا رہے ہیں جو بالآخر شادیوں، تعلقات اور بچوں کی پیدائش کی شرح کو متاثر کر سکتی ہیں۔

حالیہ مطالعات کے مطابق کئی ممالک میں شرحِ پیدائش گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تیزی سے گری ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اسمارٹ فونز کے بڑھتے استعمال نے نوجوانوں کے درمیان براہِ راست سماجی روابط کو کم کیا ہے، جس کے نتیجے میں دوستیوں، رشتوں اور شادیوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نوجوانوں کا بڑا حصہ اب اپنا زیادہ وقت موبائل فون، سوشل میڈیا، ویڈیو اسٹریمنگ اور ورچوئل سرگرمیوں میں گزار رہا ہے، جس سے حقیقی سماجی میل جول متاثر ہو رہا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق 4G اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی آمد کے بعد کئی ممالک میں شرحِ پیدائش میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ آبادی میں کمی کی واحد وجہ اسمارٹ فونز نہیں ہیں۔ معاشی دباؤ، تعلیم میں اضافہ، دیر سے شادیاں، خواتین کی پیشہ ورانہ مصروفیات اور بدلتے سماجی رجحانات بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اگرچہ اسمارٹ فونز کو براہِ راست ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا، لیکن جدید ڈیجیٹل زندگی انسانی تعلقات اور خاندانی نظام پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے، جس کے طویل مدتی نتائج پر دنیا بھر میں تحقیق جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں