حیدرآباد: آم کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بیمار، 17 سالہ لڑکی کی موت

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے نارائن گوڑہ میں آم کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے پانچ افراد شدید بیمار ہوگئے، جن میں زیر علاج 17 سالہ بھویشوری کی موت ہوگئی جبکہ دیگر افراد کی حالت فی الحال مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اندومتی اور ان کی چار بیٹیوں نے گھر میں آم کھائے تھے، جس کے کچھ ہی دیر بعد انہیں شدید قے اور دست کی شکایت ہونے لگی۔ تمام متاثرین کو فوری طور پر کاچی گوڑہ کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں علاج کے دوران 17 سالہ بھویشوری دم توڑ گئی۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ یہ آم خاندان کی ایک رشتہ دار رینوکا نارائن گوڑہ واٹر بورڈ کے قریب سے خرید کر لائی تھیں۔ آم کھانے کے فوراً بعد خاندان کے تمام افراد کی طبیعت بگڑنے سے مختلف شبہات جنم لے رہے ہیں۔ نارائن گوڑہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے جانچ شروع کردی ہے۔

پولیس اس پہلو سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا آموں میں کوئی زہریلا مادہ موجود تھا یا پھر بیماری کی وجہ کوئی اور تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور لیبارٹری جانچ کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ معلوم ہو سکے گی۔

مقامی سطح پر یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ ممکنہ طور پر آموں کو جلد پکانے کے لیے خطرناک کیمیکل یا مضر صحت مادوں کا استعمال کیا گیا ہو، جس کے باعث یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ تاہم پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی نتیجے پر نہ پہنچیں اور افواہوں سے گریز کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں