آسام میں مسلم خواتین کی ملک بدری پر سپریم کورٹ کی روک، مرکز اور ریاست سے جواب طلب

حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستانی سپریم کورٹ نے آسام میں غیر ملکی قرار دی گئی چار مسلم خواتین کی ممکنہ ملک بدری پر عبوری روک لگا دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے خواتین کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت، حکومتِ آسام اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا اور تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔

یہ معاملہ ان خواتین سے متعلق ہے جنہیں آسام کے فارنرز ٹریبونلز نے غیر ملکی قرار دیا تھا اور ان کے خلاف حراست و ملک بدری کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ غریب اور غیر تعلیم یافتہ خواتین ہیں اور برسوں سے ہندوستان میں مقیم ہیں، جبکہ ان کے خلاف کارروائی میں متعدد قانونی خامیاں موجود ہیں۔

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ نے حکم دیا کہ موجودہ صورتِ حال برقرار رکھی جائے اور اگر متعلقہ خواتین حراستی مراکز میں ہیں تو آئندہ سماعت تک انہیں ملک بدر نہ کیا جائے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت جولائی میں مقرر کی ہے۔

اس فیصلے کو انسانی حقوق کے کارکنان اور قانونی ماہرین نے اہم قرار دیا ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں آسام میں غیر ملکی قرار دیے گئے افراد کی ملک بدری کے معاملات شدید بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں