حیدرآباد (دکن فائلز) گوہاٹی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مسلم پرسنل لا کے تحت کسی مسلم مرد کی دوسری شادی کو خود بخود “بگیمی” (ایک سے زائد شادی کا جرم) نہیں کہا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مسلم شخصی قانون ایک مسلمان مرد کو چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے، اس لیے صرف دوسری شادی کی بنیاد پر فوجداری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
عدالت کے مطابق بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کے تحت بگیمی کا جرم اسی صورت میں بنتا ہے جب دوسری شادی قانوناً باطل (Void) ہو۔ چونکہ مسلم پرسنل لا میں دوسری شادی کی گنجائش موجود ہے، اس لیے ایسی شادی کو بگیمی کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مسلم قانون میں زیادہ سے زیادہ چار شادیوں کی اجازت دی گئی ہے، لہٰذا پانچویں شادی یا ایسی شادی جو قانوناً ناجائز قرار پائے، اس کے تناظر میں قانونی کارروائی کا سوال پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ فیصلہ مسلم پرسنل لا اور فوجداری قوانین کے باہمی تعلق کے حوالے سے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے اور مستقبل کے کئی مقدمات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔


