حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں جاری خصوصی ووٹر نظرثانی (ایس آئی آر) مہم کے دوران ایک اور تنازع سامنے آیا ہے۔ ضلع کاماریڈی میں گھر گھر ووٹر تصدیقی مہم انجام دینے والی ایک خاتون بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) نے الزام عائد کیا ہے کہ سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران انہیں دھمکیاں دی گئیں، حملہ کیا گیا اور سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر دو خواتین سمیت تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس کے مطابق 42 سالہ خاتون بی ایل او نے اپنی شکایت میں بتایا کہ 10 جولائی کو وہ ایس آئی آر مہم کے تحت گھر گھر جا کر ووٹر اندراج اور تصدیق کا کام کر رہی تھیں۔ اسی دوران دو خواتین نے انہیں اینومریشن فارم جمع کرایا۔ فارم کی جانچ کے دوران انہوں نے دیکھا کہ اس پر درخواست گزار کی تصویر موجود نہیں تھی، جس پر انہوں نے تصویر فراہم کرنے کو کہا۔
شکایت کے مطابق اس دوران ایک خاتون نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے تصویر نہیں لگائے گی۔ بی ایل او نے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے فارم قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ خاتون افسر کا الزام ہے کہ فارم مسترد کیے جانے پر دونوں خواتین نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی، سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی اور انہیں دھکا دیا۔
بعد ازاں ایک شخص بھی موقع پر پہنچا، جس نے فارم مسترد کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے مبینہ طور پر بی ایل او کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ جھگڑے کے دوران ملزمان نے خاتون افسر کا موبائل فون چھین کر نقصان پہنچایا، ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور جسمانی طور پر بھی حملہ کیا۔
پولیس نے شکایت کی بنیاد پر بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم پولیس نے اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس خاتون کے بارے میں شکایت میں بنگلہ دیشی ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، ابتدائی جانچ میں وہ بھارتی شہری پائی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق تمام الزامات اور دعوؤں کی تفتیش کی جا رہی ہے اور شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ تلنگانہ میں خصوصی ووٹر نظرثانی (SIR) مہم 25 جون سے جاری ہے اور 24 جولائی تک جاری رہے گی۔ اس مہم کے دوران بوتھ لیول افسران گھر گھر جا کر ووٹروں کی معلومات کی تصدیق اور اندراج کا عمل انجام دے رہے ہیں۔ مختلف اضلاع سے اس مہم کے دوران تنازعات اور شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث ایس آئی آر کا عمل مسلسل بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔


