حیدرآباد (دکن فائلز) آسٹریلیا میں ایک مسلمان شخص پر مسجد جاتے ہوئے مبینہ طور پر دو افراد کے حملے نے ملک میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا اور نفرت پر مبنی جرائم کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کے مطابق اس واقعے نے مسلم برادری میں عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 43 سالہ سمیر رغبت 24 جون کو میلبورن کے جنوب مشرقی علاقے ہیمپٹن پارک میں واقع اپنی مقامی مسجد جا رہے تھے کہ انہوں نے ایک کار پارک میں چند افراد کو کچرا پھینکتے دیکھا۔ جب انہوں نے اس پر اعتراض کیا تو دو افراد نے انہیں گھیر لیا۔ حملہ آوروں نے بار بار ان سے پوچھا، “کیا تم مسلمان ہو؟” اور ان کے اثبات میں جواب دینے کے بعد مبینہ طور پر ایک شخص نے دوسرے کو کہا، “اسے مار دو۔” متاثرہ شخص کے مطابق حملہ آور کے ہاتھ میں ایک نوکیلا دیسی ہتھیار بھی تھا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ دونوں افراد نے سمیر رغبت کو زمین پر گرا کر ان کے سر اور جسم پر متعدد گھونسے اور لاتیں ماریں۔ بعد ازاں قریب موجود لوگوں نے مداخلت کی، جس کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ متاثرہ شخص نے کہا کہ ان کی موٹی جیکٹ نے ممکنہ طور پر انہیں جان لیوا زخموں سے بچا لیا۔
وکٹوریہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم ابتدائی بیان میں کہا گیا ہے کہ دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد فی الحال اسے نفرت پر مبنی جرم (Hate Crime) قرار نہیں دیا گیا، اگرچہ تحقیقات بدستور جاری ہیں۔ اس مؤقف پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
مسلم تنظیموں اور سماجی رہنماؤں نے اس حملے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریلیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز رویوں اور اسلاموفوبیا کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں میں مساجد کو دھمکیاں، مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز تقاریر، امتیازی سلوک اور جسمانی حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث مسلم برادری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔
اسلاموفوبیا پر نظر رکھنے والی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کو سنجیدگی سے لیا جائے، متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے اور مذہبی نفرت پر مبنی جرائم کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حملہ آوروں کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔


