حیدرآباد میں وائرل بخار کے مریضوں میں بے تحاشہ اضافہ! شہریوں کےلئے ڈاکٹروں کی ضروری ہدایت (پوری خبر ضرور پڑھیں اور ہدایت پر عمل کریں)

حیدرآباد (دکن فائلز) مانسون کے موسم اور فضا میں زیادہ نمی کے باعث حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں وائرل بخار، انفلوئنزا جیسی بیماریوں اور اچانک تیز بخار کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ای ٹی وی بھارت کی رپورٹ کے مطابق کامینی ہاسپٹلس کے ایل بی نگر اور کنگ کوٹھی مراکز میں بخار اور سانس سے متعلق بیماریوں کے لیے او پی ڈی میں طبی مشورے لینے والے مریضوں کی تعداد بڑھی ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر ڈاکٹروں اور متعدی امراض کے ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وائرل بخار کی صورت میں ازخود اینٹی بایوٹک ادویات استعمال نہ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بخار 72 گھنٹے سے زیادہ برقرار رہے تو مناسب طبی معائنہ اور ضروری خون کے ٹیسٹ کرائے جائیں۔

مقامی وبائی اعداد و شمار کے مطابق حیدرآباد میں ڈینگی کے کیسز گزشتہ دو برسوں کے مقابلے میں کم ہوئے ہیں۔ جنوری سے جولائی 2026 کے وسط تک شہر میں 266 ڈینگی کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 127 لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیسز شامل تھے۔ اس کے مقابلے میں 2025 میں اسی عرصے کے دوران 570 جبکہ 2024 میں 821 ڈینگی کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

تاہم ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ ڈینگی کے مقامی کیسز میں کمی کو بیماریوں کے مجموعی خطرے میں کمی تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ملک بھر میں رواں سال اب تک 33 ہزار سے زیادہ ڈینگی کیسز اور 9 ہزار سے زائد H1N1 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جبکہ جولائی 2025 کے مقابلے میں انفلوئنزا کے کیسز میں بھی تقریباً 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کامینی ہاسپٹلس کے شعبہ طب کے سربراہ اور سینئر کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر ایم سوامی نے کہا کہ حیدرآباد میں ڈینگی کے نسبتاً کم کیسز شہریوں کو بے فکری کا شکار نہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ موسمی وائرل بخار، H1N1 انفلوئنزا اور ڈینگی کے ابتدائی 48 گھنٹوں کے دوران علامات ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہوسکتی ہیں، جس کی وجہ سے بیماری کی درست تشخیص کے لیے ابتدائی طبی جائزہ اہم ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر سوامی کے مطابق اگر بخار تین دن سے زیادہ جاری رہے تو مریض کو یہ فرض نہیں کرلینا چاہیے کہ بیماری خود بخود ٹھیک ہوجائے گی، بلکہ ڈاکٹر کے مشورے سے خون کے ٹیسٹ اور دیگر ضروری طبی جانچ کرانی چاہیے۔

وائرل بخار میں اینٹی بایوٹک سے گریز کریں
سینئر کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر ہری کشن نے وائرل بخار میں بغیر طبی مشورے کے اینٹی بایوٹک استعمال کرنے سے خبردار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اینٹی بایوٹکس وائرس کے خلاف مؤثر نہیں ہوتیں۔ ضرورت کے بغیر ان ادویات کا استعمال اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس یعنی جراثیم میں ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا ہونے کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

بچوں، بزرگوں اور حاملہ خواتین پر خصوصی نظر ضروری
کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر سری کرشنا راگھویندر بودو نے خاندانوں کو مشورہ دیا کہ وہ زیادہ خطرے والے مریضوں کی صحت پر خصوصی نظر رکھیں۔ ان میں **پانچ سال سے کم عمر بچے، بزرگ افراد، حاملہ خواتین، ذیابیطس کے مریض، دل کے امراض میں مبتلا افراد اور قوتِ مدافعت کم کرنے والی بیماریوں یا ادویات سے متاثرہ افراد** شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر مریض میں خون بہنے، سانس لینے میں دشواری، مسلسل قے، پیشاب کی مقدار کم ہونے، شدید کمزوری یا الجھن جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کی جانی چاہیے۔

ڈینگی میں بخار اترنے کے بعد بھی احتیاط ضروری
کامینی ہاسپٹلس کے کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر ڈی پردیپ کمار پٹیل نے خاص طور پر ڈینگی کے مریضوں کے حوالے سے خبردار کیا کہ بیماری کے تیسرے سے ساتویں دن کے دوران، جب بخار کم ہونا شروع ہوتا ہے، صورتحال بعض اوقات زیادہ تشویشناک ہوسکتی ہے۔ شدید پیٹ درد، بار بار قے، خون بہنا، سانس لینے میں دشواری، پیشاب کی مقدار میں کمی، غیر معمولی غنودگی یا ذہنی الجھن کو خطرے کی علامات سمجھا جانا چاہیے اور ایسی صورت میں فوری طور پر طبی امداد لینی چاہیے۔

ڈاکٹروں کے مطابق مانسون کے دوران بخار کی علامات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرنے یا خود سے دوا لینے کے بجائے بروقت طبی مشورہ، ضرورت کے مطابق ٹیسٹنگ اور خطرے کی علامات پر فوری توجہ بیماری کی سنگین پیچیدگیوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں