حیدرآباد (دکن فائلز) کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج سے قبل دارالحکومت دہلی کو سیکیورٹی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مبینہ انتخابی دھاندلی اور 13 کروڑ ووٹوں کی مبینہ تنسیخ کے خلاف بلائے گئے اس مظاہرے کے پیش نظر دہلی پولیس اور ریلوے انتظامیہ نے غیر معمولی اقدامات اٹھاتے ہوئے نقل و حرکت پر سخت قدغنیں عائد کر دی ہیں، جس کے بعد سیاسی فضا میں یہ بحث زور پکڑ چکی ہے کہ ’دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے کاکروچ میں ہے۔۔۔‘ اور کیا حکومتی پابندیاں شہریوں کے احتجاج کے بنیادی حق پر اثرانداز ہو سکتی ہیں؟
دہلی پولیس نے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ جوائنٹ کمشنر آف پولیس نپور پرساد کے مطابق سی جے پی کی درخواست تقریب سے محض چند روز قبل موصول ہوئی، جس سے مظاہرے سے 10 دن قبل پیشگی اطلاع دینے کا ضابطہ مجروح ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی کے علاقے میں بھارتیہ ناگرک سورکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت غیر قانونی اجتماعات اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف عدالتی احکامات کی روشنی میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
احتجاج کو روکنے کے لیے دہلی کی نقل و حمل کا نظام معطل کر دیا گیا ہے۔ ناردرن سینٹرل ریلوے نے 9 اور 10 اکتوبر کے دوران نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں پر ٹریفک کے دباؤ کے پیش نظر 16 اہم ٹرینیں منسوخ کر دی ہیں، جن میں کانپور-نئی دہلی شتابدی ایکسپریس، پریاگ راج ایکسپریس، ہم سفر، شرم شکتی، یوپی سمپرک کرانتی اور آگرہ-دہلی انٹرسٹی ایکسپریس سمیت غازی آباد، علی گڑھ، خُرجہ اور متھرا کے درمیان چلنے والی متعدد میمو اور ایمو ٹرینیں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دہلی پولیس کی تجویز پر میٹرو کے درجنوں اسٹیشنوں کی بندش کی تیاری کی گئی ہے جبکہ شراب کی دکانیں بھی بند رکھنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کے قائدین نے ان اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے آئین کے آرٹیکل 19 کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ “جمہوری نظام میں پرامن احتجاج کے لیے پولیس کی اجازت کی شرط بنیادی حقوق پر قدغن نہیں لگا سکتی۔ ووٹوں کی چوری کے خلاف اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہماری جدوجہد ہر صورت جاری رہے گی۔”
پارٹی کے ترجمان آشوتوش رنکا نے انتظامیہ کے اقدامات کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ حکمران بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ٹرینیں، سڑکیں اور میٹرو بند کر رہے ہیں، لیکن اس قسم کی بندشوں سے عوامی تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا۔ پولیس کی جانب سے متعدد کارکنوں کی گرفتاری کے دعوؤں کے باوجود سی جے پی نے جنتر منتر کی جانب پیش قدمی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔


