(دکن فائلز ڈاٹ کام) دہلی یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے الزام لگایا ہے کہ اسے کامن یونیورسٹی داخلہ ٹیسٹ لکھنے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ اس نے حجاب پہنا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ذاکر حسین کالج کی طالبہ نے سی یو ای ٹی کے لیے اپلائی کیا تھا جسے حجاب کی وجہ سے امتحان دینے سے روک دیا گیا۔
واضح رہے کہ کامن یونیورسٹی انٹرنس ٹیسٹ، ایک آل انڈیا ٹیسٹ ہے جس کا اہتمام نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے ہندوستان بھر کی 45 مرکزی یونیورسٹیوں میں مختلف انڈرگریجویٹ، انٹیگریٹڈ، پوسٹ گریجویٹ، ڈپلومہ، سرٹیفیکیشن کورسز اور ریسرچ پروگراموں میں داخلے کے لیے کیا ہے۔
حجابی طالبہ نے بتایا کہ ’میں نے ایڈمٹ کارڈ پر تمام ہدایات پڑھ لی تھیں اور کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ ہمیں حجاب پہننے کی اجازت نہیں رہے گی، لیکن امتحانی مرکز پہنچنے پر خاتون سیکیورٹی گارڈ نے چیکنگ کے لیے پروٹوکول کے طور پر اپنا حجاب اتارنے کو کہا، میں نے حجاب ہٹا دیا کیونکہ میں سمجھ گئی تھی کہ یہ صرف ایک پروٹوکول ہے، تاہم، چیک کرنے کے بعد مجھ سے حجاب کو مکمل طور پر اتارکر اندر جانے کو کہا، ورنہ مجھے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ گارڈ کے ساتھ استدلال کے باوجود اسے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے بعد وقت ختم ہونے کے بعد وہ امتحان میں نہیں بیٹھ سکیں۔ چونکہ مجھے مرکز میں ہی اجازت نہیں تھی، میں کسی انتظامیہ تک نہیں پہنچ سکی نہ ہی کوئی دستیاب تھا‘۔
حجابی طالبہ نے کہا کہ ابھی تک صدمے سے دوچار ہے، وہ شکایت درج کروانا چاہتی تھی لیکن ان کے اہل خانہ نے منع کردیا ہے۔ طالبہ نے کہا کہ حجاب پہننا ان کا حق ہے جبکہ حجاب نہ پہننے سے متعلق کوئی ہدایت بھی نہیں دی گی تھی۔ طالبہ نے کہا کہ میں اکیلی تھی جسے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ وہاں صرف میں ہی حجاب پہننے والی لڑکی تھی۔ یہ کیسا انصاف ہے؟


