حیدرآباد (دکن فائلز) آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ اور جن سینا پارٹی کے سربراہ پون کلیان کی جانب سے حالیہ دنوں میں سناتن دھرم کی کھل کر حمایت و غیرضروری بیانات دیئے جانے پر سی پی آئی کے سینئر رہنما کے نارائن نے شدید تنقید کی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پون کلیان کو ذاتی طور پر سناتن دھرم سے کوئی گہرا لگاؤ نہیں ہے اور وہ محض سیاسی فائدے اور مرکز میں بی جے پی قیادت کو خوش کرنے کے لیے اس موضوع کو اٹھا رہے ہیں۔ کے نارائن نے کہا کہ جس طرح بی جے پی کے کئی رہنما اپنی سیاست چمکانے کے لیے ہر مسئلے کو ہندو مسلم رنگ دے کر سماج میں تقسیم پیدا کرتے ہیں، پون کلیان بھی اسی راہ پر گامزن نظر آ رہے ہیں۔
ان کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی قربت حاصل کرنے کے مقصد سے پون کلیان نے نہ صرف اپنی زبان بلکہ اپنا سیاسی انداز بھی بدل لیا ہے۔ سی پی آئی رہنما نے پون کلیان کی ذاتی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید سخت تبصرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ سناتن دھرم میں طلاق اور بار بار شادی کو قبول نہیں کیا جاتا، ایسے میں تین شادیاں کرنے والے پون کلیان کا سناتن دھرم پر ’گیان‘ دینا مضحکہ خیز ہے۔ کے نارائن کے مطابق پون کلیان کا طرزِ زندگی خود سناتن دھرم کے اصولوں سے متصادم ہے، اس لیے انہیں اس نظریہ کی تبلیغ کرنے کا اخلاقی حق حاصل نہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ سیاست میں آنے سے پہلے اور سیاست میں قدم رکھنے کے ابتدائی دور میں پون کلیان کے بیانات نہایت سیکولر اور ترقی پسندانہ ہوا کرتے تھے۔ پون کلیان خود کو کمیونسٹ نظریات کے قریب بتاتے تھے اور کئی مرتبہ بائیں بازو کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے سیاسی و سماجی امور پر گفتگو بھی کرتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ کمیونسٹ جماعتوں کے ساتھ مل کر انتخابات میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔
کے نارائن نے کہا کہ آج وہی پون کلیان، جو کبھی سیکولرازم اور سماجی ہم آہنگی کی بات کرتے تھے، اب نائب وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر بیٹھ کر رجعت پسند نظریات کو فروغ دے رہے ہیں، جو آندھرا پردیش کے عوام کے لیے بدقسمتی کی بات ہے۔ ان کے مطابق پون کلیان ایک ایسے سیاست داں بن چکے ہیں جو موقع پرستی کے تحت اپنے نظریات بدلتے ہیں۔
آخر میں سی پی آئی رہنما نے خبردار کیا کہ اگر پون کلیان نے اپنا یہ رویہ نہ بدلا تو ترقی پسند اور باشعور عوام مناسب وقت پر انہیں جواب ضرور دیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پون کلیان نے ایک منظم سیاسی حکمتِ عملی کے تحت کمیونسٹوں سے دوری اختیار کی اور اب بی جے پی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔


