ایودھیا رام مندر میں نماز ادا کرنے کی کوشش کا الزام! کشمیری شخص ابو احمد شیخ پولیس حراست میں

حیدرآباد (دکن فائلز) میڈیا رپورٹس کے مطابق ایودھیا کے رام مندر میں ایک کشمیری شخص نے نماز ادا کرنے کی مبینہ کوشش کی، جس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔ اس سلسلہ میں ابھی تک سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق جموں و کشمیر کے شوپیان ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ابو احمد شیخ کو رام مندر احاطے کے اندر مبینہ طور پر نماز ادا کرنے کی کوشش کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، شیخ صبح کے وقت مندر کے D-1 گیٹ کے ذریعہ رام مندر کمپلیکس میں داخل ہوئے اور سیتا رسوئی نامی مقام کے قریب، جنوبی احاطے کی دیوار کے پاس بیٹھ کر نماز ادا کرنے کی کوشش کی۔

اس دوران وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ اس واقعہ کو گودی میڈیا میں برھا چڑھاکر پیش کیا جارہا ہے اور الزام عائد کیا جارہا ہے کہ ابو احمد شیخ نے یہاں مذہبی نعرے لگائے جبکہ اس سلسلہ میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔

پولیس نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے شخص کی شناخت ابو احمد شیخ، رہائشی شوپیان (جموں و کشمیر) کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ اس وقت روایتی کشمیری لباس میں ملبوس تھا اور مبینہ طور پر مندر کے اطراف شالیں فروخت کر رہا تھا۔ پولیس اب اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا وہ اتفاقی طور پر ایسا کررہا تھا یا یا اس واقعہ کے پیچھے کچھ بات ہے۔

واقعہ کے بعد مندر کی سکیورٹی کو مزید سخت کردیا گیا۔ تاحال اس معاملے میں کوئی باضابطہ گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں