تلنگانہ کے سرکاری ملازمین کو سنکرانتی کا تحفہ: وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے ڈی اے کا اعلان کردیا

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے پیر کے روز ریاستی سرکاری ملازمین کے لیے سنکرانتی کے موقع پر مہنگائی الاؤنس (ڈی اے) کا اعلان کیا۔ وہ یہاں تلنگانہ گزٹڈ آفیسرز سنٹرل ایسوسی ایشن (ٹی جی او) کی ڈائری اور کیلنڈر کی رسمِ اجرا کے بعد خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے ریاست کے تمام سرکاری ملازمین اور عوام کو سنکرانتی کی دلی مبارکباد پیش کی۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین اور حکومت ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں۔ انہوں نے ان افواہوں کو مسترد کیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایسوسی ایشن کے ارکان حکومت سے ملی بھگت رکھتے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا، “ہم سب ایک خاندان ہیں، خاندان میں کوئی سازش نہیں ہوتی۔ آپ اور ہم الگ الگ نہیں ہیں۔”

اسی تقریب میں وزیر اعلیٰ نے سابق حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے نئے اضلاع اور منڈلوں کو غیر سائنسی قرار دیتے ہوئے ان کی ازسرِنو تنظیم (ریشنلائزیشن) کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ غلط طریقے سے اضلاع کی تشکیل کے باعث ریاستی نظم و نسق پر عوام کا اعتماد کمزور ہوا ہے۔ عوام کی جانب سے ورنگل اور ہنمکنڈہ اضلاع کو ضم کرنے جیسے مطالبات سامنے آ رہے ہیں، جن کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔

ریونت ریڈی نے بتایا کہ اضلاع اور منڈلوں کی تنظیمِ نو کے لیے ایک ریٹائرڈ جج کی قیادت میں کمیشن قائم کیا جائے گا۔ یہ کمیشن چھ ماہ تک زمینی سطح پر دورے کرے گا اور اضلاع و منڈلوں کی ریشنلائزیشن پر جامع رپورٹ پیش کرے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام اضلاع میں منڈلوں کی تعداد میں توازن قائم کیا جائے گا تاکہ انتظامی نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس اہم معاملے پر بجٹ اجلاس کے دوران تفصیلی بحث کی جائے گی اور تمام سیاسی جماعتوں کی آراء لی جائیں گی۔ کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔

سرکاری ملازمین کو حکومت کا حقیقی سہارا قرار دیتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ ماضی میں غلط فیصلوں کے نفاذ کے لیے ملازمین پر دباؤ ڈالا گیا، جبکہ ذمہ دار افراد خود فارم ہاؤسز تک محدود رہے۔ انہوں نے کہا، “میں ایک بڑے بھائی کی حیثیت سے آیا ہوں اور روزانہ 18 گھنٹے کام کر رہا ہوں۔ آج میں نے ڈی اے کی فائل پر دستخط کیے ہیں، جس سے سرکار پر 227 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔”

انہوں نے مزید اعلان کیا کہ حکومت ملازمین کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور جلد ہی ہر ملازم کے لیے 1.02 کروڑ روپے کی حادثاتی بیمہ اسکیم نافذ کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ ملازمین اور حکومت ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں، بلکہ باہمی تعاون سے ہی عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکتی ہیں۔

ریونت ریڈی نے زمینوں، ریت اور جی ایس ٹی سبسڈی میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر ان پر مؤثر روک لگائی جائے تو ریاستی آمدنی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں