کیا ایران بھی امریکہ کے زیراثر۔۔۔؟ ٹرمپ انتظامیہ کا فوجی کارروائی کے آپشنز پر غور! اگر حملہ ہوا تو جواب میں اسرائیلی اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، ایران کی دھمکی (تفصیلی رپورٹ)

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر حملوں کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، جس کے بعد تہران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں فوجی اقدامات پر مشاورت کا عمل تیز ہو گیا ہے۔

اخبار کے مطابق امریکی حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اگر ایران میں مظاہرین کے خلاف تشدد میں مزید اضافہ ہوا تو امریکا سخت ردعمل دے سکتا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے تاحال کسی حتمی فوجی کارروائی کی منظوری نہیں دی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممکنہ کارروائی کی صورت میں براہِ راست فوجی تنصیبات کے بجائے غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات زیر غور ہیں، اگرچہ حتمی حکمتِ عملی ابھی طے نہیں ہوئی۔

ایران میں مہنگائی، معاشی بدحالی اور بیروزگاری کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے تیرہویں روز میں داخل ہو چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 15 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی جریدے ٹائم میگزین نے ہلاکتوں کی تعداد 217 تک پہنچنے کا دعویٰ کیا ہے تو وہیں دیگر میڈیا رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 500 سے زائد بتائی جارہی ہے۔

ادھر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام پہلے ہی یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ ان مظاہروں کے پیچھے غیر ملکی طاقتوں، خصوصاً امریکا اور اسرائیل، کا ہاتھ ہے۔ اسی تناظر میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے والے ایک غیر ملکی شہری کو گرفتار کر لیا ہے، جو حساس معلومات اسرائیلی اداروں کو فراہم کر رہا تھا۔ تاہم گرفتار شخص کی شناخت اور قومیت ظاہر نہیں کی گئی۔

صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ایرانی پارلیمنٹ نے ایک غیر معمولی اجلاس منعقد کیا، جس میں ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں ردعمل اور ملکی سلامتی کے امور پر غور کیا گیا۔ پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو ایران بھرپور جواب دے گا، اور ضرورت پڑنے پر اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق ممکنہ امریکی مداخلت کے خدشات کے باعث اسرائیل کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، ایرانی میڈیا کے مطابق عمانی وزیر خارجہ ابو سعیدی نے تہران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی، آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں خطے کی مجموعی صورتحال اور امن و امان پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسی دوران نیٹ بلاکس کی رپورٹ کے مطابق ایران بھر میں گزشتہ 60 گھنٹوں سے زائد عرصے سے انٹرنیٹ سروس معطل ہے، جس کے باعث عوام اور مظاہرین کے لیے رابطے کے ذرائع شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ایران کے اٹارنی جنرل نے مظاہرین کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کو “دشمنِ خدا” تصور کیا جائے گا، جس کی سزا ایرانی قانون کے تحت سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔

مجموعی طور پر ایران کی داخلی صورتحال، امریکی بیانات اور ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات نے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست پر بھی مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں