امیرِ شریعتِ کرناٹک حضرت مولانا صغیر احمد خان رشادیؒ کا انتقال، ملتِ اسلامیہ کے لیے عظیم علمی و دینی سانحہ

حیدرآباد (دکن فائلز) کرناٹک کی دینی، علمی اور سماجی فضا آج ایک عظیم اور ناقابلِ تلافی سانحے سے سوگوار ہے۔ امیرِ شریعتِ کرناٹک، نامور عالمِ دین، مایہ ناز محدث، مربیِ امت اور دارالعلوم سبیلُ الرشاد، بنگلور کے مہتمم و شیخُ الحدیث حضرت مولانا صغیر احمد خان رشادی رحمۃ اللہ علیہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔

ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی پورے کرناٹک ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے دینی حلقوں، مدارس، مساجد اور علمی و سماجی اداروں میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ علماء، طلبہ، ائمہ، دانشوران اور سماجی قائدین نے اس واقعے کو ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم خسارہ قرار دیا ہے۔

حضرت مولانا صغیر احمد خان رشادیؒ کا شمار ملک کے ان جلیل القدر علماء میں ہوتا تھا جنہوں نے علم، عمل، تقویٰ اور اخلاص کو یکجا کر کے ایک مثالی زندگی گزاری۔ آپ طویل عرصے تک دارالعلوم سبیلُ الرشاد، بنگلور سے وابستہ رہے اور آخرکار اتفاقِ رائے سے اس عظیم دینی ادارے کے مہتمم مقرر ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ شیخُ الحدیث کی حیثیت سے بھی درسِ حدیث کی مسند کو زینت بخشتے رہے اور ہزاروں تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔

مرحوم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فعال اور سینئر رکنِ عاملہ بھی تھے۔ بورڈ کے پلیٹ فارم سے انہوں نے شریعتِ اسلامیہ کے تحفظ، مسلمانوں کے دینی و سماجی حقوق کی پاسداری اور ملت کو درپیش اہم مسائل پر نہایت متوازن، حکیمانہ اور باوقار موقف اختیار کیا۔ ان کی بصیرت، سنجیدگی اور اخلاص کو ملک کے اکابر علماء اور قائدین میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

حضرت مولاناؒ کی شخصیت علم و حلم، سادگی و وقار اور اصول پسندی کا حسین امتزاج تھی۔ وہ نہ صرف ایک عظیم مدرس اور محدث تھے بلکہ ایک شفیق مربی، مخلص رہنما اور دردِ ملت رکھنے والے قائد بھی تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دینی تعلیم کے فروغ، اداروں کی تعمیر، علماء کی تیاری اور نئی نسل کی دینی و اخلاقی رہنمائی کے لیے وقف کر دی۔

ان کے انتقال پر مختلف دینی مدارس، سماجی تنظیموں، علمی شخصیات اور عوام الناس کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ تعزیتی بیانات میں مرحوم کو ایک منکسر المزاج، خدا ترس، باعمل عالم اور سچے خادمِ دین قرار دیا جا رہا ہے، جن کی کمی عرصۂ دراز تک محسوس کی جاتی رہے گی۔

حضرت مولانا صغیر احمد خان رشادیؒ کا علمی و دینی ورثہ، ان کے تربیت یافتہ شاگرد، ان کی تحریکی و ادارہ جاتی خدمات اور ان کی متوازن فکر ہمیشہ زندہ رہے گی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی لغزشوں کو اپنی رحمت سے معاف فرما کر نیکیوں سے بدل دے، اور انہیں جنتُ الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ نیز پسماندگان، متعلقین، طلبہ اور تمام عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل اور حوصلۂ عظیم عطا فرمائے۔
آمین یا ربّ العالمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں